تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 233
۲۲۰ -- الله نُورُ السَّموا ANWALA AND ADNAN ہے ہمیں محبت اپنی کو سب کا میا بیوی کی کلید سمجھنا چاہیئے جو خدا تعالیٰ سے والہانہ محبت رکھتا ہے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔میرا خیالی محبت نفع نہیں دیتی محبت وہی ہے جو دل کو پکڑے۔ے۔اسلام کے لئے ترقی مقدر ہے۔اگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو یہ ہمارا قصور ہے۔یہ کہنا کہ یہاں کے لوگ ایسے ہیں اور دیے ہیں صرف نفس کو دھوکا دینا ہوتا ہے۔تبلیغ میں سادگی ہو۔اسلام ایک سادہ مذہب ہے خواہ مخواہ فلسفوں ہی نہیں لکھنا چاہیئے۔۔ضروری نہیں کہ جو پہنے وہ حق پر ہو یا عقلمند ہو۔بہت باتیں جن پر پہلے ہنسا جاتا ہے بعد میں سننے والے کے دل کو مسخر کر لیتی ہیں۔پیس جدید علوم کے ماہروں کے تمسخر پر گھبرانا نہیں چاہیئے۔اور نہ ہر بات کو اس لئے رد کر دنیا چاہیئے کہ ہمارے آباء نے ایسا نہیں لکھا۔سچائی کے ضامن آباء نہیں۔قرآن کریم ہی ہے۔پس سر مرکز قرآن کریم پر عرض کرنا چاہیئے۔دعا ایک ہتھیار ہے جس غافل نہیں رہنا چاہیئے۔سپاہی بغیر سمتیار کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔۱۱۔غریبوں کی خدمت اور رفاہ عام کے کاموں کی طرف توجہ مومن کے فرائض میں داخل ہے۔۱۳ - مبلغ سلسلہ کا نمائندہ ہے۔اسلئے اس ملک کے سب حالات سے سلسلہ کو واقف رکھنا چاہیے۔خواہ تمدنی ہوں علمی ہوں ،سیاسی ہوں ، مذہبی ہوں۔حسین ملک میں جائے وہاں کے حالات کا گہرا مطالعہ کرے اور لوگوں کے اخلاق اور طبائع سے واقفیت بہم پہنچائے۔یہ تبلیغ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے۔۱۴۔رپورٹ باقاعدہ بھجوا ناخود کام کا حصہ ہے۔جو شخص اس میں شستی کہتا ہے۔وہ در حقیقت کام ہی نہیں کر سکتا۔۱۵ - نظام کی پابندی اور احکام کی فرمانبرداری اور خطاب میں آداب اسلام کا حصہ ہے۔اور ان کو بھولنا اسلام کو بھولنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور سفر میں کامیاب کرے۔خیریت سے جائیں اور خیریت سے ائیں اور بعد اتعالے کو خوش کر دیں " سے له الفضل ۲ ستمبر ١٩٣٦ء، ص ٣ +