تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 232
٢١٩ کو مولوی عبدالغفور صاحب۔برادر خورد مولانا ابو العطاء صاحب فاضل کو روانہ فرمایا اور ان کو اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل ہدایات سکھکر دیں :- ا۔سب سے پہلے آپ کو یا درکھنا چاہیئے کہ آپ تحریک جدید کے ماتحت جارہے ہیں جب کسی مبلغوں کا اقرالہ یہ ہے کہ وہ ہر تنگی تریشی برداشت کر کے خدمت اسلام کا کام کر دیں گے۔تنخواہ دار کارکن نہیں ہوں گے۔بلکہ کوشش کریں گے کہ جلد سے جلد خود کہا کہ اسلام کی خدمت کرنے کے قابل ہوں۔اس وقت جو مبلغ وہاں ہیں وہ تحریک جدید کے مبلغ نہیں بلکہ انہیں عارضی طور پر دعوة وتبلیغ سے لیا گیا ہے۔اسلئے اس بارہ میں آپ کا معاملہ اُن سے مختلف ہے۔آپ کیلئے سردست ایک گزارہ کا انتظام کیا جائے گا۔جیسا کہ چین ، سپین ، ہنگری وغیرہ کے مبلغوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔لیکن آپ کو بھی کوشش کرنی چاہیئے اور ہم بھی کوشش کریں گے کہ آپ وہاں سے اپنے گزارہ کے قابل خو در قم پیدا کر سکیں۔اور اس کا آسان طریق یہ ہے کہ جاپان اور ہندوستان میں تحریک جدید کی معرفت کوئی تجارتی سلسلہ قائم کیا جائے مگر اس سے بھی پہلے آپ کو جاپانی زبان سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آپ کے سامنے ہنگری اور سپین کے مبلغوں کا شاندار کام رہنا چاہیے۔جنہوں نے آپ کی نسبت زیادہ مشکلات میں اور اُن ممالک کے لحاظ سے کم خرچ پر وہاں نہایت اعلیٰ کام کیا ہے اور پر اعلیٰ طبقہ میں احمدیت پھیلائی ہے۔- آپ کو الہ تعالی پر توکل رکھنا چاہیے جس سے سب نصرت آتی ہے اور قرآن کا مطالعہ اور اس کے مضامین پر غور پر مداومت اختیار کرنی چاہیئے۔اسی طرح کتب سلسلہ اور اخبارات سلسلہ کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔۳۔باہر جانے والوں کو اپنا کام دکھانے کیلئے بعض دفعہ تصنع کی طرف رغبت ہو جاتی ہے اسے بچنا چاہیئے اللہ تعالٰی کی خوشنودی ہمیشہ مد نظر ر ہے۔م نیک عمل نیک قول سے بہتر ہے اور علمی تبلیغ قولی تبلیغ سے بہتر ہے اور نیک ارادہ ان دونوں امور میں انسان کا محمد ہوتا ہے۔نماز کی پابندی اور جہاں تک ہو سکے باجماعت اور تہجد جب بھی میسر ہو۔انسان کے ایمان اورا اور اسکے عمل کو مضبوط اور قوی کرتے ہیں۔