تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 225
۲۱۳ احمدی ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز ترقی کر رہا ہے یا له۔۔190 مولوی غلام حسین صاحب ایاز مولانا نام مین صاحب از جر به رمی مختار کو قادیان سے کی دوبارہ روانگی روانہ ہوئے تھے بندہ برس بعد او نو د کور بود میں تشریف ۲۴ نومی اللہ ہے۔اسکی بعد آپ مر را کتوبر ستاد کو دو بارسنگا پور میں اعلائے کلمتہ الحق کے لئے بھجوائے گئے ہے کچھ عرصہ سنگا پور میںمقیم رہنے کے بعد بور نیومیں متعین کئے گئے۔مولانا غلام حسین صاحب ایاز ذیا بطیس کے مریض تھے۔یہ بیماری یہاں آکر اکتو بر شکار کے دوسرے ہفتہ میں ایکا ایک بڑھ گئی۔14 اکتوبر یاد کی رات کو بخیریت تھے۔صرف معمولی وفات سی تھکاوٹ کی شکایت تھی۔آدھی رات کے بعد جب حسب معمول نمانہ تہجد کے لئے بھار پائی سے اُٹھے تو دھڑام سے زمین پر گر پڑے۔آپ کی اہلیہ صاحبہ جو ساتھ کے کمرے میں سورہی تھیں آواز سنکر دہ فوراً اٹھیں اور اگر دیکھا کہ زمین پر پڑے ہیں۔انہوں نے ساتھ کے ہمسایہ کو آواز دی جو احدی تھا۔انے آکر چار پائی پر ڈالا۔اور اسکے بعد جلد ایمبولینس منگورا کہ ہسپتال پہونچایا۔اتفاق سے ڈاکٹر ا رہی تھا۔جن کو آپ تبلیغ کیا کرتے تھے۔اپنی بڑی محبت، ہمدردی اور تندہی سے علاج کیا۔مگر افاقہ نہ ہوا۔اور تقریبا 4 گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد ہے اکتو بر شلوار کی درمیانی شب کو اپنے مولا کے ہاں پہونچ گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ موں سنگا پر میں کام کرنیوالے دوسری اور نا نام حسین صاحب آیاز کے قیام سنگاپور کے دوران پورمیں مندرجہ ذیل مجاہدین بغرض تبلیغ بھجوائے گئے:۔مجاہدین احمدیت کی خدمات دا، مولوی عنایت الله ماه باند را با درمولانا ابوالعطاء هنا باند شرای له الفضل ۲۲ جنوری تا ۱۳ - الفضل ۱۶ مئی ۱۹۴۶ء ص پر نئے سالکین کی فہرست بھی ملا حظہ ہو۔ه - الفضل ۳ رده گیر نشود و صلہ کالم - مولانا غلام احمد صاحب فرخ تحریر فرماتے ہیں۔کہ سنگا پور سے پندرہ سال کے بعد جب واپس کوہ آئے تو اپنی آمد کی معین تاریخ اور وقت کی کسی کو بھی اطلاع نہ دی بلکہ کراچی میں جہاز سے اتر کر گاڑی پر سوار ہو گئے اور جمعہ کے روز ربوہ میں اس وقت پہنچے جب حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ مسجد میں پہنچے اس وقت چونکہ سادہ قسم کا لائی لباس آپ کے قریب نہ تھا اسلئے اکثر کمہار نے آپ کو پہنچانا بھی نہیں ای خر معلوم ہوا کہ آپ نام حسین از مبلغ سنگا پور ملایا میں جب آپ کی بات کیا گیا کہ آپ نے اطلاع کیوں نزدی تو جواب دیا۔کہ میں نے پسند نہ کیا کہ دوست میری خاطر تکلیف اٹھا کر اسٹیشن پر جمع ہوں۔(الفضل : ۲ خوری شار مت) ه - الفصل در اکتوبر بارات - ه - المفضل ۳۰ اکتوبر ر - شاه محترمه امته الرفيق صاحہ ہے الفضل ۳۰ /اکتوبر ۱۹۵۹ء صفحه ۳ I