تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 208 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 208

140 اسی تعلق میں ایک بار انہوں نے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو خط میں لکھا :- میں جو اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔خدا تعالیٰ نے مجھ کو توہے کافی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔اگر ؟ قومی دینی علوم کے پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول کی میں کوئی خدمت کر سکتا لہ اس کے مقابل جہانتک عمل کا تعلق ہے، اُن کا اپنا اعتراف ہے کہ " اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا کے اسی طرح ایک بار انہوں نے اپنی عملی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میں تو قوآل ہوں میں گاتا ہوں تم ناچتے ہو۔کیا تم چاہتے ہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ نا چنا شروع کردوں سے انہوں نے ایک اور موقعہ پر یہ بھی اعتراف کیا کہ "اگر میں اپنی پیش کردہ تعلیمات پر عمل بھی کرتا تو شاعر نہ ہوتا بلکہ مہدی ہوتا " کے بقیه حاشیه صفحه گذشته : اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر پنڈت جی کا جماعت احمدیہ کے حق میں لکھنے کی درپردہ اعراض کیا تھیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ پنڈت جی ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے۔وہ مسلمانوں میں بالواسطہ طور پر یہ تاثر قائم کرنا چاہتے تھے کہ احمدیوں کے خلاف مجلس احرار کی تحریک سے کانگرس کو کوئی ویسی نہیں حالانکہ یہ تحریک کانگریس ہی کے اشارہ پر اُٹھائی گئی تھی بھیا کہ جلد ہفتم میں تفصیلاً بتایا جا چکا ہے۔۲۔پنڈت جی مسلم لیگ کی آئینی و مالی حیثیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے کہ اگر احمدی غیر مسلم ہیں تو مسلمانوں کے لیڈر آغا خاں بھی علامہ اقبال کے فلسفہ ختم نبوت کی رُو سے یقیناً دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے اُن کو بھی ملت سے باہر کر دینا چاہئیے۔اس کے بعد اگلا قدم شاید قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف اٹھایا جاتا۔اسماعیلی فرقہ کے مقالہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ڈا کٹر زاہد علی کی کتاب " ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت " اس کتاب میں یہانتک لکھا ہے کہ اسما عیلیوں کے ساتویں امام مولانا محمد بن اسماعیل سابع المين ، خاتم الائمه ، قائم الانتماء ، سابع الوسن سابع النطقاء کہے جاتے ہیں۔آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی کے ظاہری معطل کر دیا۔آپ نے محمد المصطفے کے دور کو پورا کیا اور آپ سے ساتواں دور شروع ہوا۔(مفہوم مقدمہ صفحہ ۴ ) سه روزگار فقیر جلد دوم صفیر مدار مولفه فقیر وحید الدین، طابع و ناشر طبع اول تو بر ) له بانگ درا" صفحه ۳۳۶ : سے اقبالیات کا تنقیدی جائزه صفحه ۱۱۷ - ۱۱۸- موتلفه قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی ناشر اقبال اکیڈیمی کراچی - اقبال مرحوم -۔کا ایک شعر ہے " " لوگ کہتے ہیں مجھے راگ کو چھوڑو اقبال ، راگ ہے دین میرا راگ ہے ایمان میرا باقیات اقبال من) ه " فکر اقبال" صفحه ۲۵۸ (مؤلفه مولانا عبد المجید سالک) اس نقطہ نگاہ سے اقبالیات کے مطالعہ کا شوق رکھنے والوں -