تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 196
۱۸۵ - ڈاکٹر سہ اقبال کا بیان۔۔۔پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی۔کیونکہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ایڈ میں جب کشمیر کمیٹی کا آغاز ہوا، شملہ میں زور دے کر مجھے اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا جو کشمیریوں کی آئینی اعداد کے لئے قائم کی گئی تھی۔حالانکہ وہ خالص اسلامی کام تھا۔پس اُس وقت تو ہم مسلمان تھے۔لیکن آج کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلامی جماعت ہی نہیں۔اگر جماعت احمدیہ اسلامی جماعت نہیں تو کیوں اسلام میں سر اقبال نے زور دے کر مجھے ایک اسلامی کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا۔کیا اسلام میں مجھے پریذیڈنٹ بنانے والے انگریزوں کے ایجنٹ تھے جو آج کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کی حمایت کی وجہ سے یہ سلسلہ ترقی کر رہا ہے ؟ اُس وقت میری پریذیڈنٹی پر زور دینے والے دو ہی شخص تھے، ایک خواجہ حسن نظامی صاحب اور دو سگر ڈاکٹر سراقبال ب خواجہ صاحب تو اس موقع پر ہماری جماعت کے خلاف بولے نہیں۔اس لئے ان کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا۔لیکن ڈاکٹر سر اقبال چونکہ ہمارے خلاف بیان دے چکے ہیں اس لئے ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ میں انہوں نے کیوں ایک اسلامی کمیٹی کا مجھے پریذیڈنٹ بنایا ؟ اب کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو عام مسلمانوں میں اثر و اقتدار کشمیر کمیٹی میں کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوا حالانکہ اس کمیٹی کی صدارت ڈاکٹر صاحب کے زور دینے کی وجہ سے مجھے ملی۔پس کیوں ۹۳۱ م میں انہوں نے احمدیوں کو مسلمان سمجھا ؟ اور کیوں اب آکر انہیں محسوس ہوا کہ جماعت احمدیہ کو مسلمانوں میں سے الگ کر دینا چاہئیے ؟ یا تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ اس وقت ہاری حمایت کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے وہ روپے لے کر آئے تھے جو ان کی جیب میں اچھیل رہے تركرنا تھے اور وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شامل کر کے اُن کی طاقت کو توڑ دیں اوریاتی لیکن چاہیے کہ وہ اس وقت احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب جو کہہ رہے ہیں کہ انگریزوں نے احمدیوں کو قوات دی تو غلط کہہ رہے ہیں۔آخر ہمارے عقائد بدلے تو نہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال کو اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔بلکہ وہی عقائد ہم اب رکھتے ہیں جو اس میں اور اس سے پہلے تھے۔مگر اس میں تو ہم ڈاکٹر سر اقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیڈر ، اُن کے نمائندہ اور اُن کے راہ نما ہو سکتے تھے اور ڈاکٹر اقبال میری صدارت پر زور دے سکتے اور میر کی صدارت میں کام کر سکتے تھے۔لیکن اب ہمیں سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رکھنے تک کے لئے تیار نہیں۔اس میں تو ہار سے اسلام