تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 195
IAP میں جانے سے کوئی بھی نہ روک سکے گا صرف پنجاب ہی کے صوبہ کو لے لیجئے جہاں سے یہ تحریک اکھٹی ہے اور اس کے بعد اندازہ کیجئے کہ یہ تحریک کس قدر بے محل اور غلط ہے۔پنجاب میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مسلم اکثریت ہے اور مسلمانوں نے حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ پنجاب کی مسلم اکثریت کو آئینی طور پر تسلیم کرے۔چنانچہ حکومت نے ایک نشست کی زیادتی سے مسلم اکثریت تسلیم کرلی ہے۔ہندو اور سکھ متفقہ طور پر مسلم اکثریت قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔چنانچہ راجندر پرشاد اور مسٹر جناح کی گفتگوئے مصالحت بھی ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے اسی بناء پر بیکار قرار دی گئی اور اس سمجھوتہ کو اسی وجہ سے مسترد کیا گیا۔لیکن اب مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ احمدیوں کو ان سے علیحدہ کر کے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔حالانکہ اُن کو معلوم ہے کہ پنجاب کے مسلمان جو ۵۶ فیصدی ہیں صرف اسی صورت میں اکثریت کا دعوی کر سکتے ہیں جب احمدی بھی ان میں شامل رہیں ورنہ دس فیصدی پنجاب کے احمدی اگر شکل گئے تو مسلمان صرف ۴۶ فیصدی رہ جاتے ہیں۔اور پھر سکھ ، ہندو اور احمدی مل کر اکثریت میں آجاتے ہیں۔ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کیا مسلمان اپنے پیر پر خود کلہاڑی نہیں مار رہے ہیں کہ اچھے خاصے اکثریت میں ہوتے ہوئے اپنے کو اقلیت میں ڈال رہے ہیں اور اپنی اس کوشش پر خود ہی پانی پھیر رہے ہیں جو سالہا سال سے جاری تھی حکومت نے جدید اصلاحات کے ماتحت اہ نشستیں مسلمانوں کی رکھی ہیں۔ان میں سے نوشستیں احمدیوں کو ضرور مل جائیں گی اور کسی رقت ان کی جماعت کا وزیر ہو جانا بھی بعید از امکان نہیں ہے گویا اس طرح احمدی تو نہایت فائدہ میں رہیں گے۔البتہ اگر نقصان پہنچے گا تو اُن کو ہی جو آج اپنے لئے یہ تنہا ہی کے سامان نہیا کر رہے ہیں۔یہ واقعہ ہے کہ احمدیوں اور عام مسلمانوں میں مذہبی طور پر استحاد عمل ناممکن ہے۔لیکن سیاسی طور جس طرح ایک منفی ، ایک شیعہ کو انگیز کر سکتا ہے، جس طرح ایک دیو بندی ایک بریلوی کو برداشت کر سکتا ہے کیا احمدی جماعت سے سیاسی تعلقات بھی اسی طرح نہیں رہ سکتے ہم کو امید ہے کہ مسلمان اس تحریک پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے " بے حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروز استید تاحضرت خلیفہ البیع الثانی مینی الہ عنہ نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے حیرت انگیز بیان پر ۲۴ مئی ۳۵ ئہ کے خطبہ تبصور خطبہ جمعہ میں) جمعہ میں نہایت بصیرت افروز تبصرہ کیا۔چنانچہ حضور نے فرمایا : " الفضل " یکم جولائی ۱۹۳۵ و صفحه ۸ +