تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 194 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 194

IAN کر رہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اچھوت ان میں سے نہیں۔ان کو اس کا بھی احساس ہے کہ اچھوتوں سے ملنا دھرم کو مٹی میں ملاتا ہے۔مگر آج ضرورت نے اسی حرام کو حلال کر دیا ہے اور وہ اچھوت جن کا سایہ تک ناپاک سمجھا جاتا تھا اور جن کو دیکھ کر ایک کر بہت سی ہوتی تھی آج ہندوؤں کی سر آنکھوں پر جگہ پا رہے ہیں۔اور وہی ہندو جوان نا پاک اچھوتوں کو دیکھ کر حقارت اور تنفر کے ساتھ اچھی چھی چھی " کہا کرتے تھے، آج ان کو اپنے سر چڑھا رہے ہیں۔ان کو اپنی برادریوں میں برابر کی جگہ دے رہے ہیں۔ان کے ساتھ کھا رہے ہیں۔ان سے روٹی بیٹی" کے تعلقات پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں بحالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔وہ بغیر اچھوتوں کو ملائے ہوئے اکثریت میں ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہیں کہ اگر اس وقت انہوں نے اچھوتوں کو چھوڑ دیا تو ممکن ہے کہ ان کو مسلمان یا کوئی اور اقلیت اپنا لے اور ان کو ملا کر اکثریت بن جائے۔ایک طرف تو یہ احتیاط ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی یہ لا پروائی بلکہ سیاسی بد بختی ہے کہ ان میں بجائے تنظیم کے ایک پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔عام مسلمانوں کا کیا سوال جبکہ مسلمانوں کے لیڈران کو باہمی تفرقہ سازی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلان تمام خواهد شد احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھنے اور قانونی حیثیت سے اُن کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیئے بجانے کی تحریک ہی کو دیکھ لیجئے کہ یہ سیاسی اعتبار سے کس قدر نا بھی ، عاقبت نا اندیشی اور تد تور کے منافی تحریک ہے۔اور اسی تحریک سے مسلمانوں کے سیاسی فقدان کا پتہ چلتا ہے۔یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ احمدیوں کو اپنے سے علیحدہ نہ کر کے ہم بہر حال کسی نقصان میں نہیں بلکہ فائدے میں ہیں۔اول تو ہماری تعداد بڑھی ہوئی ہے۔دوسرے اُن کے ووٹروں سے ہم فائدہ اُٹھاتے ہیں۔تیسرے سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا فیصلہ بالکل ہماری مرضی پچر ہے کہ ہم کسی احمدی کو کسی مجلس قانون ساز میں منتخب ہونے دیں یا نہ ہونے دیں۔لیکن احمدیوں کو اپنے حلقہ سے جدا کرنے کے بعد ہم کو سب سے پہلا نقصان تو یہ پہنچے گا کہ ہماری جماعت کا ایک عنصر گویا ہم سے علیحدہ ہو گیا۔ہماری اقلیت اور بھی اقل ہو کر رہ جائے گی۔اور گویا ہم خود اپنے دوٹواں کو اپنے ہاتھ سے دیں گے۔اس کے علاوہ احمدیوں کے علیحدہ ہو جانے کے بعد ان کی نشستیں بالکل صلیحدہ ہو جائیں گی اور وہ مجالس قانون ساز میں بغیر روک ٹوک کے جاسکیں گے۔آج اگر وہ جانا چاہیں تو ان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی لیکن علیحدگی کی صورت میں وہ بلاشرکت غیرے اپنی نشستوں کے مالک ہوں گے۔اور ان کو مجالس قانون ساز