تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 183 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 183

14F کے ہنگامہ میں ہوا۔اس کی تفصیل مشہور معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ صاحب کے قلم سے پڑھتے۔لکھتے ہیں :- در همین حمایت اسلام لاہور کا جلسہ ہمیشہ امن و امان سے ہوتا تھا کیونکہ اس میں اسلام کے امور عامہ پر تقریریں ہوتی تھیں۔مگر اس دفعہ پروگرام میں خلاف معمول مضامین مخصوصہ پر تقریریں بھی درج تھیں مثلا ختم نبوت وغیرہ ہم جانتے ہیں کہ مسئلہ ختم نبوت بھی اسلام کے امور عامہ میں سے ہے۔مگر چونکہ پنجاب میں فرقہ قادیانیہ ختم نبوت کا قائل نہیں اس لئے لازم تھا کہ تقریر میں اس فریق کا ذکر یا اشارہ ہوتا چنانچہ ایسا ہی ہوا خیر یہ تو ایک معمولی بات تھی جو آئی گئی ہو گئی۔خاص قابل ذکر بات جو ہوئی وہ یہ ہوئی ہے کہ۔۔۔۔مسلمانوں نے آواز سے کتنے شروع کر دیے کہ وائسرائے کی اگر کٹو کونسل میں چودھری ظفر اللہ ان احمدی کے نمبر ہونے کے خلاف جلسہ انجمن میں رزلیوشن پاس کیا جائے لیکن کارکنان انجین مذکور اپنے اصول کے ماتحت اس سے انکاری رہے۔حاضرین جلسہ (مسلمانوں) کا جم غفیر اس امر پر مصر تھا۔۲۲ اپریل کو بعد دو پر مغرب تک جلسے میں یہی شور محشر رہا۔آخر کار وہی جماعت مولوی ظفر علیخان آف زمیندار کوئے آئی اور سٹیج پر تقریر کرا کر اپنے حسب منشاء رزولیوشن پاس کرا لیا۔کیا یہ رزولیوشن انجمین کا ہوگایا پالک کا اس کا فیصلہ انجمن کی روئداد کرے گی " اے اخبار سیاست ( ۱۴ مئی ۱۹۳۵) نے اس افسوسناک کارروائی کی ذمہ واری صدر انجمن حمایت اسلام علامہ ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب پر ڈالی اور یہ رائے دی کہ :- علامہ سرڈاکٹر محمد اقبال صاحب امت مرحومہ کے ایسے فرد ہیں جن کے وجود پر ہر سلمان فخرو ناز کر سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ کچھ عرصہ سے احتیاج اور اس سے زیادہ حاشیہ نشینوں کے گمراہ مشورہ نے سر موضوت کو ایسے راستہ پر لگا دیا ہے جو ڈاکٹر صاحب کو کعبہ مفاد ملت کے خلاف لے جارہا ہے۔آپ انشین کے صدر ہیں چاہیئے یہ تھا کہ مجلسہ انجمن کی یہ بادی سے آپ آزردہ خاطر ہوتے اور جین لوگوں نے یہ حماقت کی تھی اُن کو ڈانٹ بتاتے اور یوں طلبت مرحومہ پر واضح کر دیتے کہ آپ احرار کی فتنہ آرائی کو معیوب سمجھتے ہیں۔اور آپ کو انجمن کی عزت کا لحاظ ہے۔آپ سے خصوصا یہ توقع اس وجہ سے بیجا نہ تھی کہ آپ بحیثیت صدر یہ کر سکتے تھے کہ اجمیر کی شمارتوں کے مظاہرہ اوّل کے بعد فی الفور امین کی کونسل کا جلسہ بگلا کو ارکان انجمن سے کہدیتے کہ ہماری رائے میں ارادہ کا مطالبہ جائز ہے۔آپ اس قسم کا ریزولیوشن لے ہفت روزہ " اہلحدیث امرتسر سرمئی ۱۹۳۵ صفحه۔