تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 181 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 181

12۔طرح بیعت کرتے ہیں جس طرح خلیفہ قادیان کے ہاتھ پر۔پھر احرار اپنے آپ کو سچائی کے پاسبان سمجھتے ہیں اور قادیانی جماعت کو غلط راہ پر قرار دیتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ احراری امیر کے ہاتھ پر جیت کرنے والوں کے دلوں میں اپنے امیر کے لئے نہ وہ قربانی کا جذبہ ہے اور نہ ہی وہ عقیدت ہے جو خلیفہ قادیان کے مریدوں کے دلوں میں ہے۔کیا کبھی احرار نے غور کیا ہے کہ اس کا کیا کارن ہے کہ ان کی سچائی ریسے وہ خود سچائی قرار دیتے ہیں، وہ رنگ نہیں لا رہی ہو بقول احرار خلیفہ قادیان کا وجبل و فریب رنگ لا رہا ہے۔کیا آجکل ایشور نے اپنا اصول بدل دیا ہے؟ اور کیا سے صداقت آمد و باطل روان شد طلوع شمس شد شتر نہاں شد کا کلیہ بدل گیا ہے، ہرگز نہیں۔واہگوردوجی کے نیم اٹل ہیں۔خدا کے قاعدے کبھی نہیں بلہ لیتے اور میں تو میرزا جی کی اس کتھا کی تائید کرتا ہوں کہ۔ܚܘ کبھی نصرت نہیں بلتی در مولا سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو اس لئے اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ احمدی تعلیم کے اندر کچھ ایسی کشش ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف کھینچے آرہے ہیں اور خلیفہ قادیان میں کوئی ایسے تو ہر یقینا ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور پھر لطف یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ اس جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ دیوانہ ہو جاتا ہے یہانتک کہ جن لوگوں کو خلیفہ صاحب کے مذہبی عقائد سے اختلات ہے وہ بھی آپ کی سیاسی رہنمائی کو ضروری خیال کرتے ہیں چنا نچہ مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر مثلا خواجہ سن نظامی جو مسلمانوں کے سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ مذہبی گو رو بھی ہیں خلیفہ صاحب سے سیاسی بل ورتن کے سبق میں ہیں۔اسی طرح میاں سر فضل حسین وغیرہ بہت سے اسلامی سیاستدان احمدیوں سے تعاون کر رہے ہیں مگر احراریوں سے کو اپریشن کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں چنانچہ احمدی مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کا نفرنس کے ممبر ہیں۔اور یہ جماعت بھی مسلم لیگ کانفرنس کے اصولوں کی حامی ہونے کے علاوہ ہر قسم کی مدد کرتی رہتی ہے۔الغرض سوائے جماعت احرار کے تمام مسلمان سیاستدان احمدیوں سے مذہبی عقیدوں میں اختلاف رکھنے کے باوجود ان سے