تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 155
۱۴۷۴۷ ربوہ میں سب سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ بیرونی مشنوں کو کنٹرول کرنے والے دفتر دوکالت تبشیر میں دیکھنے میں آتا ہے۔احمدیوں نے اپنے آپ کو اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے مقصد کے لئے دل و جان کے ساتھ وقف کر رکھا ہے۔اسلام کی اشاعت کو وہ ہر مسلمان کا بنیادی فرض تصور کرتے ہیں۔ربوہ میں باقاعدہ ایک مشنری کا لج (جامعہ احمدیہ) ہے جو بیرونی ممالک کے لئے مبلغین تیار کرتا ہے اور اسی طرح بیرونی ممالک سے آنے والے نو سامری کو اسلامی علوم سے بہرہ ور کرتا ہے۔بیرونی مشنوں کو کنٹرول کرنے والا دفتر نشر و اشاعت کے میدان میں بھی انتہائی طور پر سرگرم واقع ہوا ہے۔انگریزی ماہنامہ " دی ریویو آف ریلیجنز کے علاوہ جیسے اس کے باقاعدہ اور مستقل آرگن کی حیثیت حاصل ہے، یہ اس قدر کثیر تعداد میں کہتا ہیں' چھوٹے چھوٹے رسالے اور پمفلٹ شائع کرتا ہے کہ نہیں دیکھ کر حیرت آتی ہے۔یہ تمام لٹریچر اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا دونوں کے نقطۂ نظر سے شائع کیا جاتا ہے اور مقصد اس کی اشاعت سے یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو احمدیت کا حلقہ بگوش بنایا جائے“ احمدیوں کا یہ مطمع نظر کہ وہ مغرب کی عیسائی دنیا کو اپنے مخصوص اسلام کا حلقہ بگوش بنا کر ہی دم لیں گے بظاہر ایک دیوانے کی بڑ نظر آتا ہے۔مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی تنظیم جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور جو اپنے محدود وسائل سے کام لے کر مغرب کے متمول اور ذی ثروت ممالک میں تبلیغ اسلام کی انتہائی گراں بار ذمہ داری کو نبھانے میں کوشاں ہے اس کی اس قسم کی توقعات بط ہر مایوس کن دکھائی دیتی ہیں۔بایں ہمہ یہ اس زیر دست یقین اور جذبہ و جوش کی آئینہ دار ضرور ہیں، جس سے یہ لوگ مالامال ہیں۔اس مقصد کے حصول میں ابھی انہیں ایک معتدل حد تک کامیابی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے تبلیغی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی انگلستان، فرانس، اٹلی ، سپین ، ہالینڈ، جرمنی ، ناروے اور سویڈن میں ان کے باقاعدہ مشن ہیں۔جنوبی امریکہ کے ممالک میں سے یہ لوگ ٹرینیڈاڈ ، برازیل اور کا ٹاریکا میں موجود ہیں۔اسی طرح ایشیائی ممالک میں سے سیلون ، برطا ، ملایا ، فلپائن، انڈونیشیا، ایران ، عراق اور شام میں بھی ان کے مبلغ مصروف کار ہیں۔افریقی ممالک میں سے عصرا زنجباً نٹال، سیرالیون ، گھانا، نائیجیریا، مراکش اور ماریشس میں بھی ان کی جماعتیں قائم ہیں۔