تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 154
ہے۔اس جماعت کا نصب العین بہت بلند ہے یعنی یہ کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی مذہب کا پابند بنا کر انہیں باہم متحد کر دیا جائے۔وہ مذہب احمدیت یعنی تحقیقی اسلام ہے اس کے ذریعہ یہ لوگ پوری انسانیت کو اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک کر کے دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہیں توقع ہے کہ بالآخر تمام بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر مسلمان ہو جائیں گے۔یہ جماعت خود اور اس کا مولد و مسکن سے نکل کر پوری دنیا پر اس قدر مضبوطی سے پھیل جانا نوع انسان کی روحانی تاریخ کے عجیب و غریب واقعات میں سے ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے “ امریکہ کی ریاست پنسلوانیہ میں ولکیز کا لج مریکایی پی این ایموجی است و این کالا امریکی WILKES COLLEGE) کے شعبہ فلسفہ کے صدر پروفیسر سٹین کو ایم دوجيكا ( STANKO MUJIKA ) نے انگلستان کے جریدہ ایسٹرن ورلڈ " ( TERN WORLD EASTERN ) میں لکھا :- قادیان گروپ کو آج بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔تقسیم برصغیر کے بعد سے ربوہ اس گروپ کا ثانوی مرکز ہے جو مغربی پاکستان میں واقع ہے۔اس گروپ کی قیادت شہر سے بانی سلسلہ احمدیہ کے فرزند مرزا بشیرالدین (محمود احمد) کے ہاتھ میں ہے۔بالعموم آپ کے پیرو آپ کو احتراماً " حضرت صاحب" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔آپ ہمیشہ ہی ایک اولو العزم لیڈر اور زرخیز و مارغ مصنف واقع ہوئے ہیں۔اپنے والد کی طرح آپ کو بھی دعوی ہے کہ آپ تعلق باللہ کے ایک خاص مقام پر فائز ہیں۔مثال کے طور پر آپ نے ایک جگہ اپنے متعلق ذیل کی عبارت لکھی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہو کچھ لکھا ہے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ لکھا ہے۔آپ لکھتے ہیں :- عد اتعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو میرے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلا دیا۔اور بیسیوں موقعوں پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشترف فرمایا۔۔۔۔دنیا کا کوئی علم نہیں جو اسلام کے خلاف آواز اُٹھاتا ہوا اور اس کا جواب ضد العالے مجھے قسم آن شریف سے ہی نہ سمجھا دیتا ہو " (دیا جو تفسیر القرآن انگریزی) سے بحوالہ ماہنامہ انصار الله" فروری ۱۹۶۲ء صفحه ۶-۰۷