تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 153
کھنے آتے ہیں بلکہ ان مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیمات کشش کا موجب ہیں جو مذہب سے بیگانہ ہیں یا عقلیات کی رو میں بہہ گئے ہیں۔اُن کے مبلغین ان حملوں کا بھی دفاع کرتے ہیں جو عیسائی مناظرین نے اسلام پر کئے ہیں۔جامعه از بر کا ترجمان المرکز جامع الازہر کے ترجمان "الانہ میں نے جولائی ۱۹۵۸ء کے شمده جامعه از بر کا ترجمان الامر میں مغربی افریقہ میں تحریک جدید کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔_ : وَلَهُمْ نَشَاطُ بَارِزُ نِي كَافَةِ الشَّوَارِيَ وَمَدَارِسُهُمْ نَاجِحَةُ بِالرَّعْيمِ مِنْ أَنَّ تلَامِيذَ هَا لا بَدِينُونَ جَمِيعًا بِمَذْهَبِهِمْ " ینی جماعت احمدیہ کی سرگرمیاں تمام امور میں انتہائی طور پر کامیاب ہیں۔ان کے مدارس بھی کامیابی سے چل رہے ہیں یا وجود یکہ ان کے مدارس کے تمام طلباء اُن کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے سوئٹزرلینڈ کا روز نامہ برنز گیلٹ (BERNERTRGBLATT) روز نامہ بر رنگیلٹ سیٹزرلینڈ "1 نے اپنی اور جون ۱۹۶۱ء کی اشاعت میں لکھا :۔اس دوران میں یہ جماعت (احمدیہ) دنیا کے اور بہت سے حصوں میں بھی پھیل گئی ہے جہانتک یورپ کا تعلق ہے لندن ، ہمبرگ ، فرانکفورٹ ، میڈرڈ ، زیور بچی اور سٹاک کالم میں اب اس جماعت کے باقاعد تبلیغی مشن قائم ہیں۔امریکہ کے شہروں میں سے واشنگٹن ، لاس اینجیلیز، نیو یارک، پٹسبرگ اور شکاگو میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں۔اس سے آگے گر نیا ڈا ، ٹینیڈاڈ اور ڈر گیانا میں بھی یہ لوگ مصروف کار ہیں۔افریقی ممالک میں سے سیرالیون ، گھانا ، نائیجیریا ، لائیبیریا اور اور مشرقی افریقہ میں بھی ان کی خاصی جمعیت ہے۔مشرق وسطی اور ایشیا میں سے مسقط، مشق بیروت ، مادیش، برطانوی شمالی یورنیو ، کولبو ، رنگون ،سنگا پور اور انڈونیشیا میں اُن کے تبلیغی میشن کام کر رہے ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ سے قبل ہی قرآن کا دنیا کی سات مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا چنانچہ اب تک ڈرچ ، بومن اور انگریزی میں پورے قرآن مجید کے تراجم عربی متن کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں۔اسی طرح عنقریب روسی ترجمہ بھی منظر عام پر آنے وال ے کو الہ " الفضل " ۱۶ار فروری شارب ہے اور زائر غرب الہند کا ایک جوابیده ( موفقیت) یو