تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 88
کے پوچھنے پر اس کی وجہ ان کو بتائی تو انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ یہ بہت اچھی تحریک ہے ہم بھی آئینڈ اس پر عمل کریں گے۔پھر میں نے سنیما کی ممانعت کی تھی۔اس بات کو ہمارے زمیندار دوست نہیں سمجھ سکتے کہ شہریوں کے لئے اس ہدایت پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے۔شہر والے ہی اسے سمجھ سکتے ہیں۔ان میں سے بعض کے لئے سنیما کو چھوڑنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے موت قبول کرنا جن کو سنیما جانے کی عادت ہو جاتی ہے وہ اُسے زندگی کا جزو سمجھتے ہیں۔مگر ادھر میں نے مطالبہ کیا کہ اسے چھوڑ دو اور اُدھر بنانے سے فیصد کی لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور پھر نہایت دیانتداری سے اس عہد کو نباہا اور عورت مرد سب نے اس پر ایسا عمل کیا کہ جو دنیا کے لئے رشک کا موجب ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اس سے لاکھوں روپیہ بھی گیا ہو گا۔۔۔۔پھر اس سے جو وقت بچا اس کی قیمت کا اندازہ کرو۔یہ مطالبہ معمولی نہ تھا۔لیکن جماعت نے اُسے سنا اور پورا کر دیا اور اس سے فوائد بھی حاصل کئے۔اس کے علاوہ کون نہیں جانتا کہ عورت کپڑوں پر کرتی ہے مگر ہزارہا عورتوں نے دیانتداری سے لباس میں سادگی پیدا کرنے کے حکم پر عمل کیا۔اور یہ باتیں انفرادی قربانی اور قومی فتح کا ایک ایسا نشاندار نمونہ ہیں جس کی مثال کم ملتی ہے۔یہ قربانی معمولی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کی قربانی ہے اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے اس میں فتوحات کا لمبا سلسلہ ہے۔پھر کتنے نئے ممالک میں احمدیت روشناس ہوئی۔کم سے کم دس پندرہ ممالک ایسے ہیں کئی علاقوں میں گو احمدیت پہلے سے تھی مگر تحریک جدید کی جدوجہد کے نتیجہ میں اس کا اثر پہلے سے بہت وسیع ہو گیا ہے اس کے علاوہ ایک نتیجہ یہ نکلا کہ۔۔۔۔دنیا نے محسوس کر لیا کہ جماعت احمدیہ صرف۔مسلمانوں کے لشکر کا ایک بازو ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنی منفردانہ حیثیت بھی رکھتی ہے اور اللہ تعالٰے کے فضل سے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔پہلے ہماری اس حیثیت سے دنیا واقف نہ تھی تحریک جدید کے نتیجہ میں ہی وہ اس سے آشنا ہوئی۔مگر یہ سب فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہوئیں۔ہمارا مقصد نہیں ہمارا مقصد اُن سے بہت بالا ہے اور اس میں کامیابی کے لئے ابھی بہت قربانیوں کی ضرورت ہے لہ " المفضل " ۱۵ نومبر ۳ : صفحه ۶ تا ۸ 4