تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 87 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 87

تحریک جدید کے پہلے تین سال دورے کے استید تا حضرت خلیفہ ربیع الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام شاندانست بیج برایانه کیا۔اور ہم اُسے فخر کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔مورخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی ہے حضرت امیر المومنین نے نے اس اجمال کی تفصیل مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی :- مر کے آخر میں جماعت میں جو بیداری ہوئی اس کے نتیجہ میں جماعت نے ایسی غیر معمولی قربانی کی روح پیش کی جس کی نظیر اعلیٰ درجہ کی زندہ قوموں میں بھی مشکل سے مل سکتی ہے۔۔۔تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام کیا اور ہم اسے فخر کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔مؤرخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہیں۔حکومت کے اس عنصر کو جو ہمیں مثانے کے درپے تھا متواتر ذلت ہوئی۔۔۔۔۔۔اور احرار کو تو اللہ تعالیٰ نے ایسا ذلیل کیا ہے کہ اب وہ مسلمانوں کے سٹیج پر کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سب دشمنوں کو ایسی سخت شکست دی ہے کہ حکام نے خود اس کو تسلیم کیا ہے۔۔" " اس کے علاوہ جو جماعت میں تبدیلی ہوئی وہ بہت ہی شاندار ہے۔ہماری جماعت لاکھوں کی تعداد میں ہے جس میں امیر غریب ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کو سات سات اور آٹھ آٹھ کھانے کھانے کی عادت تھی اور جن کے دستر خوان پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کھانے ہی کھانے پڑے ہوتے تھے مگر تحریک بدید کے ماتحت سب نے ایک ہی کھانا کھانا شروع کر دیا اور نہ صرف احمدیوں نے بلکہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں غیر احمدیوں نے بھی اس طریق کو اختیار کر لیا۔میری ایک ہمشیرہ شملہ گئی تھیں انہوں نے بتایا کہ وہاں بہت سے رؤساء کی بیویوں نے مانگ مانگ کہ تحریک تجدید کی کاپیاں لیں اور کہا کہ کھانے کے متعلق اُن کی ہدایات بہت اعلیٰ ہیں۔ہم انہیں اپنے گھروں میں رائج کریں گے۔ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بعض غیر احمدیوں کے ساتھ ایک نہیں میں شریک تھے۔تحریک جدید کے بعد جب انہوں نے دوسرا کھانا کھانے سے احتراز کیا اور دوسرے ساتھیوں " الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۳۸ و صفحه ۲ :