تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 77
- جلد -1 پہلا باب (فصل چهارم) جلسه سیرت النبی" لکھنؤ کے خلاف ہنگامہ آرائی جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام ۶/ نومبر ۱۹۳۲ء کو ہندوستان بھر میں سیرت النبی کے کامیاب جلسے ہوئے مگر لکھنو میں اس کے خلاف احراری خیال کے علماء اور ان کے زیر اثر مسلمانوں کی طرف سے افسوسناک مظاہرہ ہو ا جسے لکھنو کے مسلم پریس نے سخت حقارت سے دیکھا۔اس ضمن میں روزنامہ "حقیقت" اور روزنامہ "ہرم " اور روزنامہ اودھ " لکھنو کے اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔روزنامه "حقیقت" نے لکھا۔” پرسوں شب کو امین الدولہ پارک میں جبکہ سیرۃ النبی کا جلسہ ہو رہا تھا تو عین اس وقت جبکہ کلام پاک کی تلاوت کے وقت ہر عقیدت مند مسلمان ادب و تعظیم کے ساتھ قرآن پاک سن رہا تھا امین الدولہ پارک کے باہر کچھ مسلمان سخت شور و ہنگامہ کے ساتھ مسلمانوں کو ہدایت کر رہے تھے کہ وہ جلسہ سے اٹھ کر چلے آئیں اور اس قدر شورو شر مچایا جا رہا تھا کہ قاری کی آواز کو سننا مشکل ہو گیا۔یہ کس قدر افسوسناک اور قابل عبرت ہے کہ ایک ایسے جلسہ کو جو رسول عربی کی یاد گار منانے کے لئے منقعد ہو رہا ہو، خواہ وہ کسی جماعت کی طرف سے ہو اس کے خلاف اس حد تک نفسانیت سے کام لیا جائے کہ رسول اللہ کا ذکر سننے سے لوگوں کو روکا جائے۔احمدی حضرات کے عقائد جو کچھ بھی ہوں لیکن جب یہ جلسہ خالص سیرۃ کا جلسہ تھا اور یہ طے شدہ تھا کہ اس میں اشارۃ " وكنا بینڈ بھی احمدی عقائد کا کوئی ذکر نہ ہو گا۔تو پھر کیا بانی اسلام علیہ التحیتہ والسلام کی صریح تو ہین نہیں ہے کہ اس جلسہ میں شرکت سے مسلمانوں کو روکا جائے اور شور مچا کر آنحضرت کی سیرت پاک کا ذکر سننے سے لوگوں کو روکا جائے۔سب سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ حرکت خود مسلمانوں کی طرف سے سرزد ہوئی۔انا لله وانا اليه راجعون "۔م روزنامہ " اودھ " نے لکھا۔اس مرتبہ بھی سالہائے گزشتہ کی طرح احمد یہ جماعت کی طرف سے بانی اسلام کی حیات مبارک کے قابل تقلید واقعات ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے پبلک تک پہنچانے کی مبارک غرض سے ۶/ نومبر کو جلسہ سیرۃ النبی ای منعقد کیا گیا لیکن ہم کو یہ دیکھ کر انتہائی