تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 63
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ سپرٹ پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔جلسوں اور رفاہ عام کے کاموں میں تنظیم سے نوجوان کام کریں گے۔اور اس سے بہت فائدہ ہوگا۔نمائندگان جماعت کی بحث و تمحیص اور استصواب رائے کے بعد حضور نے احمدیہ کو ربنانے کی اجازت دے دی اور اس کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مندرجہ ذیل الفاظ میں فیصلہ صادر فرمایا۔میں اس تجویز کو اتفاق رائے کے مطابق منظور کرتا ہوا بعض خیالات ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ اس تجویز کو ہم دو نقطہ نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں ایک وقتی اور سیاسی حالات کے ماتحت اور یہ بہت محدود نقطہ نگاہ ہے کیونکہ وقتی اور سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں۔لیکن جب یہ حالات پیدا ہوں۔تو ان کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ان کے علاوہ ایسے حالات ہیں جن کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ مستقل تربیت کی ضرورت ہے جس سے کبھی کوئی جماعت مستغنی نہیں ہو سکتی نیک خاندانوں میں شریر اور شریر خاندانوں میں نیک لوگ پیدا ہو جاتے ہیں نوجوانوں کو خطرہ میں پڑنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی صحیح طور پر تربیت کی جائے۔مگر اس میں دقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں جوش ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کریں ان کے سامنے نہ لڑکے ہوتے ہیں اور نہ لڑکوں کے جرائم نہ لڑکوں کی نیکیاں ہوتی ہیں اور نہ ان کی غلطیاں۔ایک جماعت کا مقامی امیر اپنی جماعت کے لڑکوں کی تربیت کر سکتا ہے مگر لڑکوں کی برائیاں اور نقائص اس کے سامنے نہیں آتے۔اگر ہر جگہ والٹیر کور بنالیں اور یہ کام ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ایک لمبے عرصہ اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے تو اس سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت میں جماعت کی تربیت کی طرف نگاہ رکھنے والے آدمیوں کے سامنے سارے نوجوان آجایا کریں گے اور وہ ان کو نصائح کر سکیں گے۔مذہبی اور اخلاقی وعظ کیا جاسکے گا۔گویا اس طرح تربیت اور نصائح کرنے کے مواقع زیادہ ملنے لگ جائیں گے۔اس کے علاوہ ایک دوسرے کے ذریعہ نگرانی بھی کرائی جاسکے گی۔جب کسی لڑکے کے متعلق شکایت ہو کہ اس میں یہ نقص ہے تو کور کے افسر کے ذریعہ اس کی اصلاح آسانی سے کرائی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اپنے ماتحت لڑکے کی نگرانی کر سکتا ہے اور دوسرے لڑکوں کے ذریعہ نگرانی کرا سکتا ہے۔عام طور پر یہ نگرانی اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ اپنے طور پر جب ایک لڑکا دوسرے لڑکے کو دوست بنائے گا تو اپنے ہی رنگ کے لڑکے کو بنائے گا۔یعنی بد معاش لڑکا بد معاش کو ہی دوست بنائے گا لیکن کور میں اس کے اختیار میں نہ ہو گا کہ جس سے چاہے دوستی کرے۔بلکہ کور کا افسر جسے چاہے گا۔اس کا ساتھی مقرر کر دے گا اور اس طرح آوارہ لڑکوں کو شریف لڑکوں کے سپرد کر کے ان کی نگرانی