تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 55 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 55

پہنچائی۔ریت - جلد ۶ ۵۵ صوفی عبد الغفور صاحب پراچہ ان دنوں ریاست بہاولپور کے پلیٹی آفیسر تھے اور بہاولپور میں ہی مقیم تھے سلسلہ کے تمام بزرگ اور مبلغین جو مرکز سے مقدمات کی پیروی کے لئے وہاں تشریف لے جاتے تھے ہمیشہ انہیں کے ہاں قیام پذیر ہوتے اس طرح صوفی صاحب تین چار سال تک مسلسل نهایت خندہ پیشانی سے مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں انتشار ایک ایسے نازک وقت میں جبکہ سیاسی حقوق اور اور حضرت خلیفتہ المسیح کی اپیل مفاد کے لحاظ سے ہندوستان کے مسلمان امیدو بیم کی کشمکش میں مبتلا تھے وسط ۱۹۳۲ء میں افسوسناک واقعه پیش آیا که مشهور مسلمان لیڈر مولانا شفیع صاحب داؤدی نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کی سیکرٹری شپ سے کسی بناء پر استعفیٰ دے دیا اور مسلمانان ہند کی اس واحد سیاسی نمائندہ جماعت میں زبر دست اختلاف رونما ہو گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ﷺ نے اس نازک موقعہ پر مولانا محمد شفیع صاحب داؤدی کو تو یہ مشورہ دیا کہ وہ استعفیٰ واپس لے لیں۔اور مسلمان لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ کوئی نئی پارٹی بنانے سے احتراز کریں۔حضور کے اس بیان کا مکمل متن حسب ذیل ہے۔مسلم کیمپ میں پھوٹ پڑ جانا نہایت درجہ افسوسناک ہے اور مسلم مفاد کے لئے بے حد ضرر رساں ہے میری رائے میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کا مجوزہ جلسہ جو ۳/ جولائی کو منقعد ہونے والا تھا اس کو ملتوی کر دینے کی ضرورت نہ تھی۔بہتر ہوتا کہ جلسہ کر لیا جاتا۔اور اس میں طے شدہ مسلم پروگرام کے متعلق التواء کا فیصلہ کیا جاتا۔اگر اکثریت اس کے حق میں ہوتی تو جلسہ ملتوی کر دیا جاتا۔لیکن میرا خیال ہے کہ صدر نے التوا کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔آپ نے صرف اس خواہش کا اظہار کیا لنڈا کوئی وجہ نہ تھی کہ مولانا شفیع داؤدی استعفیٰ دے دیتے۔مسلمانوں کے لئے بے حد نازک موقعہ ہے لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ بجائے اس کہ کوئی نئی پارٹی بنا کر مسلم مفاد کو نقصان پہنچایا جائے۔متحد ہو کر کام کریں۔میں مولانا محمد شفیع داؤدی سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لے لیں۔اور اگر وہ بورڈ کا جلسہ منعقد کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے دلائل کا نفرنس میں پیش کریں۔اس صورت میں انہیں اختیار دیا جائے لیکن اس سے باہر کام کرنا درست نہیں۔میرا خیال ہے کہ مسلمان اپنے جمود کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔اگر ہمارے مسلم نوجوان دیکھیں گے کہ