تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 565
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۵۱ ۲۷۳ اصل رپورٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ المسیح کے ریکارڈ میں موجود ہے۔۲۷۴۔حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۴۳ء پر بتایا کہ میں نے مجسٹریٹ کو لکھ دیا کہ یہ ظالمانہ حکم ہے اور اس طرح میری ہتک کی گئی ہے مجسٹریٹ صاحب سمجھے یہ موقع ان کو ممنون کرنے کا ہے۔وہ کہنے لگے آپ نے یہ کیا لکھ دیا ہے سوچ لیس میں نے کہا تم کو اس سے کیا۔تم گورنمنٹ کی چٹھی لائے ہو۔اب اس کا جواب لے جاؤ۔پھر ہم چھ ماہ تک گورنمنٹ سے پوچھتے رہے کہ یہ حکم کس بناء پر جاری کیا گیا تھا۔عمر کوئی جواب نہ دیا گیا آخر حکومت پنجاب کے چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہم کافی ذلیل ہو چکے ہیں آپ آئندہ اس بات کو نہ اٹھائیں۔(غیر مطبوعہ تقریر- فرموده ۲۷/ دسمبر ۱۹۴۳ء سے اقتباس) ۲۷۵ - الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۷ تا ۹ ۲۷۶۔رپورٹ سالانہ صیغہ جات صد را انجمن احمد یہ یکم مئی ۱۹۳۲ء لغایت ۳۰/ اپریل ۱۹۳۵ء صفحه ۷ ۱۸- ۲۷۷- تحریک جدید کی طرف اشارہ ہے جو حضور نے خاص القاء کے ماتحت جاری فرمائی اور جسکی تفصیل اگلی جلد میں آرہی ہے۔۲۷۸- الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ ٢٧٩- الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم ۲- ۲۸۰- تحصیل گورداسپور تھانہ کا ہنودان ۲۱ - ۱ پریم پر چارک ۱۲/ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۸ جلد نمبر - اصلی پرچہ کا تر اشہ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔۲۸۳- الفضل ۲۳/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحہ اکالم - ۲۸۳ الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۱- ۲۸۴- پیغام صلح ۲۸ / اکتوبر ۱۹۳۴ صفحه ۵- ۲۸۵- ایک پنجابی شاعر جس نے کانفرنس میں نہایت دلازار نظمیں سنائیں۔۲۸۶- پیغام صلح ۱۳ نومبر ۱۹۳۲ء صفحه ۸ کالم ۲ ۲۸۷- ایضا صفحہ ۶ کالم ۳ ۲۸۸ - مولوی ثناء اللہ صاحب لکھتے ہیں۔ہاں یہ صحیح ہے کہ ہم دونوں احرار کے جلسہ قادیان میں نہیں گئے تھے جس کی بابت ہمار ا اعلان ہو چکا تھا۔ہم وہ سارے الفاظ نقل کر دیتے ہیں۔جلسه قادیان (یعنی جلسہ احرار - ناقل) جو عنقریب ہونے والا ہے۔لوگ میری شرکت کی بابت سوال کرتے ہیں۔ان کو واضح ہو کہ بانیان جلسہ نے اپنی کسی مصلحت کے ماتحت نہ مجھ سے مشورہ لیانہ دعوت دی۔مولانا ابراہیم صاحب کے خط سے بھی ایسا ہی معلوم ہوا ہے۔ان حالات میں ہماری شرکت نہ ہوگی۔(الحدیث امر تسر صفحه ۱۴-۱۹ / اکتوبر ۱۹۳۴ء) اس اعلان کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک لڑکا امرتسری شاء اللہ نامی کراچی میں کلرک ہے۔احرار نے اپنے اشتہار جلسہ کے مدعو دین میں اس کو مولوی ثناء اللہ لکھا تھا۔اس پر بعض احباب نے دریافت کیا۔تو ہم نے یہ نوٹ شائع کیا۔جس کا ہمیں افسوس ہے کیونکہ مولوی میر محمد صاحب بھانبڑی نے بعد جلسہ قادیان ہم کو بتایا کہ آپ کی عدم شرکت کی وجہ سے لوگ معہ امدادی چندہ کے واپس چلے گئے۔واللہ اعلم - المحدیث امر تسر ۲۴/ جنوری ۱۹۳۶ء صفحه ۴ کالم (۳) ٢٨٩- الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲- -۲۹۰ الحکم ۲۸/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحہ الالم ۳ ا ٣٩١ الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ ۲۹۲ زمیندار ۴/ اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۵ کالم ۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۱ جولائی ۱۹۳۵ء کو انجمن سیف الاسلام (نیلہ گنبد لاہور) کا نیا انتخاب عمل میں آیا اور مولانا سیف الرحمن صاحب جنرل سیکرٹری مقرر کئے گئے۔۲۹۳- قبول احمدیت کے تفصیلی حالات اگلی جلد میں آرہے ہیں۔۲۹۴ - الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ کالم ۱-۲- -۲۹۵ الفضل ۷ار جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ سے کالم ۲-۳-