تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 560 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 560

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۴۶ ایل وفا کی نذر محقر قبول ہو تلوار تیری وہر میں نقاد خیر و شر بهروز جنگ توز جگر سوز ور آزاده پر کشاده پر کشادہ پری زاده تیم سپر تیری پختہ جہاں کا نظام ہے رایت تری سپاہ کا سرمایه ظفر سطوت ارے کا آفتاب آزادی زبان } قلم ہے اگر یہاں ← اونچا مقام ہے سامان صلح دیر ر حرم ہے اگر یہاں اگر یہاں تہذیب کاروبار اہم ہے اگر یہاں سنجر میں تاب تیغ میں دم ہے جو کچھ بھی ہے عطائے شد محترم ہے ہے ہے آبادی ویار تیرے دم قدم وقت آگیا کہ گرم ہو میدان کار زار پنجاب ہے پیغام شهریار اہل وفا کے جو ہر پنہاں ہوں آشکار ہو سپاه پہنائے روزگار تاجر کا زر اور سپاہی زور ہو غالب جہاں میں سطوت شاہی کا زور 猎 اخلاص بے غرض ہے صداقت بھی بے غرض خدمت بھی بے غرض ہے اطاعت بھی بے غرض حمد وفا و مهر و محبت بھی بے غرض تخت ششی سے عقیدت بھی بے غرض لیکن مقال فطرت اناں ضرور ہے نمایاں ضرور ہندوستاں جب تک چین کی جلوہ گل اساس ہے جب تک تیم صبح عنادل کو راس ہے جب ← تک فروغ لالہ احمر لباس ہے تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح سے شاہیں اسی طرح لتا رہے چکور سے (ایضاً صفحه ۵۵ تا ۵۷) ۱۸۷- بحوالہ الفضل ۸ / مارچ ۱۹۳۲ء صفحه ۴ کالم ۰۲ ۱۸۸ اس اپیل پر جماعت احمدیہ کی مخالفت پر مشہور پادری احمد مسیح نے مولوی ظفر علی خان کو لکھا۔"جناب مولوی ظفر علی خان صاحب تسلیم از میندار نے جو قادیانی تحریک کی تردید کی ہے وہ ہم مسیحیان ہند کے لئے باعث صد سردرد بہجت ہے کیونکہ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ خداوند یسوع مسیح کلمتہ اللہ اور روح اللہ کا کوئی ثانی نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔مرزائے قادیان نے ہمارے خداوند کا نام اختیار کر کے مسلمانوں کے ایک حصہ کو جو جادہ اسلام سے برگشتہ کر دیا ہے۔شکر اور صد شکر ہے کہ اس کی تردید کرنے والے خود مسلمانوں میں پیدا ہو گئے ہیں جن کو ایک عرصہ سے ہم مسیحیان ہند خداوند کے سایہ میں لانے کے متمنی اور سامی ہیں۔(رسالہ