تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 559
تاریخ احمدیت ۵۴۵ سلامت قیصره کو اور قیصر کو خدا رکھے یہی اک نغمہ جاں پرور ہے سب قومی ترانوں میں ہمارے واسطے کیا کم ہی انعام د عزت ہے کہ داخل ہو گئے قیصر کے ہم بھی مدح خوانوں میں ا ظفر علی خان کی گرفتاری صفحه ۱۱۸ مرتبه حبیب الرحمن عرف خان کا بلی الافغانی مارچ ۱۹۳۷ء - ناشر د فتر ریفارم لیگ اسلام گلی و سن رہے پورہ لاہور) ۱۸۶- ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کی دو نظموں کے چند اشعار سپرد قلم کرتے ہیں۔لفٹنٹ گورنر پنجاب ولیم بل کی شان میں۔چمک رہا ہے ابھر کر مثال کہ جس کے ہاتھ نے کی قصر عدل کی تعمیر نشاط فراوان که اختر تقدیر وہ کون زیب تخت J منیر حضور زینت محفل ہیں ناز ہے ہم کو جھلک رہی ہے نصیبوں میں سبزی کشمیر دیده عالم مزے سے ہوتا ہے بے خوف کوئی جو غور سے وہ دیکھے تو امن کی ہے بہار کہ تیرے محمد کا ہے خواب بھی کمو تعبیر درسگاه محفل یہ شان یہ تعمیر جو بزم اپنی ہے طاعت کے رنگ میں رنگیں تو درسگاه رموز وفا کی ہے تغیر وہ لوگ ہم ہیں کہ نیکی کو یاد رکھتے ہیں دعا نکلتی ہے دل سے حضور شاد رہیں ای اصول کو ہم کیمیا سمجھتے ہیں نہیں ہے غیر اطاعت جہان میں اکسیر عدد جہان میں کرتے ہیں آپ ہم اپنی غریب دل کے ہیں لیکن مزاج کے ہیں امیر مگر حضور نے ہم پر کیا ہے وہ احسان کہ جس کے ذوق سے شیریں ہوا ، لب تقریر اسی سبب سے زمانے میں اپنی ہے تو قیر رہیں جہان میں عظمت طراز تاج و سریر عجب طرح کا نظارہ ہے اپنی محفل میں کہ جس کے حسن پہ نازاں ہے خامہ تحریر ہوئے ہیں رونق محفل جناب ولیم بل ضیائے مہر کی صورت ہے جس کی ہر تدبیر علم و فضل کی آنکھوں کا نور ہیں واللہ انہیں کی ذات سے حاصل ہے مہر کو تنویر خدا انہیں بھی زمانے میں شاد کام رکھے یہ وہ ہیں دہر میں جن کا نہیں عدیل و نظیر قمر کے گرد ستارے ہیں ہم عناں کیا ہیں ہے جس طرح کا شہنشہ اسی طرح کے وزیر خوشا نصیب کہ ہماری بزم کی یک بار بڑھ گئی تو قیر بڑھے جہان میں اقبال ان مشیروں کا کہ ان کی ذات سراپا ہے عدل کی تصویر سرود رفته صفحه ۱۷۷۰۱۷۶- ترتیب و تحشیہ مولانا غلام رسول صاحب مهرا طبع اول ۱۹۵۹ء ہمره حضور آئے ملک معظم حکومت برطانیہ کی شان میں اقبال نے جو قصیدہ ایک مشاعرہ میں سنایا تھا اس کے چند بند درج ذیل ہیں۔اے تاجدار خطہ جنت نشان بشار روشن تجلیوں سے تری خاوران اند محکم تیرے علم سے نظام جہان ہند تیغ جگر شگاف تیری پاسبان ہند ہنگامہ وعا میں مرا ނނ قبول