تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 555
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۴۱ تبلیغ کون کرے؟ مولانا نے فرمایا۔بات تو آپ نے ٹھیک کی۔اچھا سالک صاحب اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیجئے کہ اگر ہم ایک تبلیغی ادارہ کھول لیں تو کیسا ہے ذرا امر صاحب کو بھی بلوائے آگئے مہر صاحب؟ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اگر یہاں لاہور میں ایک مرکزی تبلیغی ادارہ کھول لیا جائے اور اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلا دی جائیں تو کیا حرج ہے؟ کوئی دس لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے؟ سات کروڑ نہیں آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہو گی۔اگر ہر مسلمان سے ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے تو کتنے روپے ہوئے؟ ریاضی کا سوال تھا کسی سے حل نہ ہوا۔سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔اتنے میں مولانا نے کہا آٹھ کروڑ پیسے ہوتے ہیں نا؟ آٹھ کروڑ کو ہم پر تقسیم کیجئے ساڑھے بارہ لاکھ روپے ہوئے چلئے دس لاکھ ہی سہی۔دس لاکھ بہت ہے یہ مرحلہ تو طے ہو گیا۔اب سوال یہ ہے کہ تبلیغ کا کام کن کن لوگوں کے سپرد کیا جائے ؟ لیکن مبلغ بھی چوٹی کے آدمی ہیں۔مثلاً مولانا ابو الکلام آزاد فرانس جرمنی وغیرہ میں تبلیغ کریں اور ڈاکٹر اقبال کو چین بھیج دیا جائے۔سالک صاحب آپ اور مہر صاحب مل کر اخبار سنبھالئے۔میں تو اب تبلیغ اسلام کا کام کروں گا کچھ دیر تو دفتر بھر میں سناتا رہا۔آخر ایک صاحب نے جی کڑا کر کے کہا کہ مولانا! اس میں کوئی شک نہیں کہ تجویز بہت خوب ہے لیکن روپیہ جمع کیسے ہو گا؟ آخر مسلمانوں سے دس لاکھ روپیہ جمع کرنے کے لئے بھی ایک لاکھ روپیہ چاہیے۔آپ کہیں سے ایک لاکھ روپیہ کا انتظام کر دیجئے۔باقی کام ہم سنبھال لیں گے۔مولانا نے فرمایا۔ہاں بھئی۔یہی تو مشکل ہے۔یہ کہہ کر منہ پھیر کر حقہ کی نے سنبھالی انگوٹھا انگشت شہادت پر نیم دائرہ بنا نا گھومنے لگا اور اس تبلیغی ادارہ کے اجزا حقہ کے دھوئیں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو کر رہ گئے۔۱۵۳- اس زمانہ میں ہندو دماغ احمدیت کی نسبت کن منتقمانہ جذبات سے بھرا ہوا تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ اخبار ملاپ (۸/ مارچ ۱۹۳۳ء) نے جماعت احمدیہ کے کسی پوسٹر کا ذکر کیا جس میں لکھا تھا کہ "خلیفہ قادیان کرشن کا اوتار ہے“۔یہ بات بے بنیاد تھی اور جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے خلاف مگر اس پر اختبار آریہ ویر نے ۱۴-۲۲ / مارچ ۱۹۳۳ء کی اشاعت میں لکھا کہ مردہ ہیں ہندو جو اس قسم کی دلازاری کو برداشت کر لیتے ہیں اگر ان میں جان ہوتی تو جس وقت مرزا نے کرشن ہونے کا بیہودہ دعوی کیا تھا اسی وقت اس کا دماغ ٹھیک کر دیتے یا اب بھی ابو البشیر جیسے لوگوں کو آئے دانے کے بھاؤ کا پتہ دے سکتے ہیں"۔(بحواله الفضل ۲۶/ مارچ ۱۹۳۳ء صفحه ۳ کالم ۳) ۱۵۴ بحواله الفضل ۲۳/ مارچ ۱۹۳۳ء صفحه ۴ کالم ۲ ۱۵۵- بحواله الفضل ۱۶ / مارچ ۱۹۳۳ء صفحہ ۴ کالم ۱-۲- ۱۵۶- ترجمان اسلام لاہور (ہفت روزہ) ۲۲/ ستمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۱۲۔۱۵۷ بحوالہ تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء - صفحہ ۳۳۷ ۱۵۸- ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جواب شکوہ میں لکھتے ہیں۔شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلمان تا بود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ بر صغیر کے مشہور صوفی حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی نے موجودہ مسلمانوں کی نسبت یہ نظریہ قائم کیا۔اگر بالفرض اس زمانہ میں اصحاب نبی اللہ موجود ہوتے تو اس زمانہ کے لوگوں کو کافر کہتے۔اس لئے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے شریعت کی پیروی چھوڑ دی ہے"۔(تذکرہ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی اردو ترجمه نافع السالکین صفحه ۵۷ طبع اول مترجم صاحبزادہ محمد حسین صاحب علمی ناشر شعاع ادب مسلم مسجد چوک انار کلی لاہور) ای طرح چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار کو بھی اقرار ہے کہ "اگر پہلی صدی ہجری کا کوئی مسلمان کسی طور زندہ ہو کر موجودہ ہندوستان میں آئے تو وہ فور آپکار اٹھے کہ یہاں کے اسی فیصدی مسلمان کافر میں اور انہوں نے محض سیاسی مقاصد کے