تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 554
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۴۰ ۱۳۵ آغا عبد الکریم شورش کا شمیری مدیر چٹان سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ "شاہ صاحب کا سیاست کی نسبت نظریہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ کوئی شریر لفظ سمو دیکھا یہ خدع و غریب کے ایک ایسے اجتماعی کاروبار کا نام ہے جس سے بابو لوگ اغراض کی دکان چمکاتے ہیں"۔(صفحہ ۱۷) ۱۳۹ چوہدری افضل حق صاحب کا نظریہ یہ تھا کہ غلاموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور مسلمان کبھی غلام نہیں ہو سکتا اس لئے مسلمانوں کو جو دراصل مسلمان کہلانا چاہتے ہیں ملک کی جہد آزادی میں شامل ہو کر ہندوستان کو آزاد کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔(ملاپ / جون ۱۹۳۹ء) ۱۳۷- اہلحدیث ۲۹/ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۳ کالم ۱-۲- ۱۳۸ اخبار آزاد لاہور ۳۰ / اپریل ۱۹۵۱ء صفحہ ۷ اکالم ۱-۲- ۱۳۹ احرار نمبر ۲۷- ستمبر ۱۹۵۸ء صفحه ۱۸۱۷ ۱۴۰ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۹۴ ۱۴۱ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۳۱ ( از خان کا بلی) ۱۴۲- سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۹۴ از آغا شورش کا شمیری) پھکڑ بازی ان کی ایسی عادت ثانیہ بن گئی تھی کہ بعض اوقات اس کی زد میں خود بھی آجاتے تھے چنانچہ شاہ صاحب نے ۱۵/ مئی ۱۹۳۵ء کو لاہور کے ایک جلسہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف نہایت دلازار تقریر کی جس کا ایک فقرہ اخبار احسان میں یہ شائع ہوا کہ "خدا نے بخاری کو مرزائیوں کے اوپر دجال بتا کر بٹھا دیا ہے"۔(بحوالہ الفضل ۲۳/ مئی ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم (۴) ۱۴۳- تبلیغ ہی کا فریضہ وہ ہے جس سے مجلس احرار نے ایسی مجرمانہ غفلت برتی کی چوہدری افضل حق صاحب کو لکھنا پڑا کہ ”خدا نے مجلس احرار کو زبان اور لوگ دیئے ہیں جن کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی تقریریں قلوب کو گرمادیتی ہیں لیکن میں نے سینکڑوں تقریروں میں اسلام کے محاسن اور خوبیاں بیان ہوتے سنی ہیں مگر کسی احراری لیڈر کو یہ کہتے نہیں سنا کہ مسلمانو تم بھی اپنے دینی اور تبلیغی فرض کو ادا کرو اور غیر مسلموں میں اسلام کا تحفہ پیش کرو۔احرارہی ہیں جن کے متعلق عام گمان ہے کہ وہ اسلام کے بہترین مبلغ اور جادو بیان ہیں۔جب ان کا یہ حال ہے تو دوسروں سے کیا توقع جن سے عمر بھر آواز نہیں سنی کہ مسلمانو اسلام کا تحفہ غیر مسلموں تک پہنچانا بڑی سعادت اور بہترین خدمت ہے۔ہم نے ہزاروں تبلیغی جلسے کئے ہوں گے مگر کبھی کسی ایک میں بھی مسلمانوں سے براہ راست اپیل نہیں کی گئی کہ اپنی اپنی بستیوں کے غیر مسلم لوگوں میں اس دین کی جو دنیا میں بہترین پروگرام پیش کرتا ہے تبلیغ کریں۔نتیجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں کوئی تبلیغی جس نہیں۔علماء امراء اور صوفیاء موجود ہیں۔مگر ان کی بھی اس طرف توجہ نہیں ہر ایک اپنی دکان چلانے میں مصروف ہے اور کار دین سے سب غافل ہیں۔ننانوے فیصدی مسلمانوں کو جو صوم صلوۃ کے پابند ہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ عمر میں ایک دفعہ کسی غیر مسلم کو تبلیغ دین کریں گویا یہ کوئی کام ہی نہیں "۔(خطبات احرار جلد اول صفحه ۷۲ مرتبه شورش کاشمیری مطبوعه ۱۹۴۴ء) ۱۴۴- اہلحدیث ۲۴/ جنور کی ۱۹۳۶ء صفحہ ۳ کالم ۳۔۱۴۵ خطبات احرار جلد اول صفحہ ۷۶ مرتبه شورش کا شمیری) مطبوعہ ۱۹۴۴ء۔۱۴۶- اقبال اور سیاست ملی صفحه ۱۳۱۱ از سید رئیس احمد صاحب جعفری) ۱۴۷ بحواله الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۵ کالم ۳ ۱۳۸- الفضل ۹ / مارچ ۱۹۳۵ء صفحه ۶ - ١٣٩ الفضل ۷ / مارچ ۱۹۳۵ء صفحه ۱۲- ۱۵۰ الموعود صفحه ۱۷۸ تا ۱۸ تقریر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) ۱۵۱ ہمارے فرقہ وارانہ فیصلے کا استدراج - صفحہ ۱۲۱) مصنفہ قائد احرار مولانا مظہر علی اظہری) ناشر مکتبہ احرار لاہور طبع اول جون ۶۱۹۴۴ ۱۵۲ چراغ حسن صاحب حسرت نے اپنی کتاب مردم دیدہ (صفحہ ۱۵۴ تا ۱۵۶) میں مولوی ظفر علی خان صاحب کا یہ واقعہ لکھا ہے۔” ایک دن میندار کے دفتر میں کسی نے کہا چین، جاپان ، انگلستان ، جرمنی اور فرانس کے لوگ مسلمان ہونے پر آمادہ ہیں۔لیکن انہیں