تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 549 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 549

تاریخ احمدیت جلده ۵۳۵ ۵ محو الله تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء صفحہ اے ۶ (مولفہ چودھری حبیب احمد صاحب) ۵۲ خطبات ابو الکلام آزاد صفحه ۳۱۷-۱۳۱۹ نا شرایم شاهو الله خان اینڈ سنز ۲۶ ریلوے روڈ - لاہور - سفہ جناب شورش کا شمیری لکھتے ہیں۔پنجاب کے احرار جس میں جماعت احرار کے راہنمائی نہیں بلکہ تحریک خلافت کے پنجابی راہ نما بھی شامل ہیں بعض اعتبارات سے مولانا ہی کی سیاسی تخلیق تھے۔(ظفر علی خاں صفحہ ۱۷) اخبار مجاہد نے احرار کی تشکیل کا واقعہ ۱۹۳۰ء کا بتایا ہے جو غلط ہے یہ قطعی طور پر دسمبر ۱۹۲۹ء کا ہے۔(ناقل) - تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء صفحہ ۴۲-۴۹۷ ۵۲ پاکستان اوراچھوت صفحه ۲۴ تا ۲۶ ۵۷- تاریخ احرار صفحه - ۵۸ اخبار نیشنل کانگریس ۳/ جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ 1 ۵۹ طاب ۵/ جون ۱۹۳۶ء بحوالہ اہلحدیث امر تسر / جون ۱۹۳۶ء صفحه ۱۵ ۶۰- ايضا - تاریخ انقلابات عالم جلد دوم صفحہ ۱۴۰۷ سید ابوسعید بزمی ایم-اے) ناشر کتاب منزل لاہور طبع اول ۱۹۵۱ء۔نیشنل کانگریس لاہوری ا/ جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ ۲۔۶۳- تاریخ احرار صفحه ۱۰۳- تاریخ احرار صفحه ی از چودهری افضل حق صاحب ) ناشر زمزم یک ایجینسی بیرون موری دروازہ لاہور۔۶۵ تاریخ احرار صفحه ۱۳۸ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۲۹-۳۰ (مولفه جناب شورش کاشمیری) ۶۷- زمیندار ۲۱ جون ۱۹۳۶ بحوالہ فسادات ۱۹۵۳ء کا پس منظر صفحه ۱۲۸۰۲۷ از ملک فضل حسین صاحب) بنا شرادارة المصنفین ربوه -۶۸ بحوالہ پیغام صلح / اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم ہو۔- سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۶۳ - بحوالہ تحریک پاکستان و نیشنلسٹ علماء صفحه ۴۹۶ اے بحوالہ تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء - صفحہ ۱۰۱۴ تا ۱۹۱۷- ۷۲ - اخبار نیشنل کانگریس لاہور ۱۴/ مارچ ۱۹۳۹ء صفحہ ۹ کالم ۳۔۷۳ زمزم لاہور ۳۰/ اپریل ۱۹۳۹ ء بحوالہ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ ۱۶ ۷۴۔ہفت روزہ ترجمان اسلام (لاہور) ۸ / دسمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۲ کالم ۳ ۷۵ افسوس جناب آزاد صاحب نے اس جنگ بربادی میں شامل نہ ہونے کی پاداش میں مسلمانوں کو مطعون کرتے اور ہندوؤں کو خراج عقدیت پیش کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ برٹش گورنمنٹ ایک کانسٹی ٹید مثل گورنمنٹ تھی۔ملک آزاد ہوا اور انگلستان نے اپنا فرض ادا کر دیا لیکن دنیا یاد رکھے کہ جو کچھ ہوا اس قوم کی سرفروشی سے ہوا جو مسلم نہ تھی۔پر جو مسلم تھے انہوں نے آزادی کی جگہ غلامی کی اور سربلندی کی جگہ سجدہ مذلت کی کوشش کی ہندوستان کی ملکی نجات یقیناً ایک عظمت و عزت کی یاد گار ہے لیکن اس عزت میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں اگر ملک کے قوانین کی ترمیم ہوئی نئے مفید قوانین بنائے گئے بریار کن محصولوں اور ٹیکسوں سے انسانوں نے نجات پائی۔تعلیم جبری اور عام ہوئی فوجی مصارف میں تخفیف ہوئی اور سب سے آخر یہ کہ ملک کو حکومت خود اختیاری ملی تو صرف ہندوؤں قابل عزت ہندوؤں کو اور مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت ہندوس کی وجہ سے۔کیونکہ انہوں نے پالٹیکس شروع کیا اور پھر پلٹیکس اسی کوسمجھا مگر مسلمانوں نے اس کو مصیبت سمجھ کر کنارہ کشی کی اور جب شروع بھی کیا تو شیطان نے سمجھایا کہ گورنمنٹ کے آگے سجدہ کریں یا اس کے آگے بھیک مانگنے کے لئے روئیں اور پھر مانگیں بھی تو اشرفی نہیں چاندی سونا نہیں لعل و جواہر نہیں بلکہ تانبے کا ایک زنگ آلودہ ٹکڑایا سوکھی روٹی کے چند ریزے۔(تحریک