تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 547
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۳۳ ۲۴۔ترکوں کے ارمنوں پر فرضی مظالم صفحه ۲۳ شائع کردہ مجلس خلافت پنجاب) ۲۵- جب بغاوت کا مقدمہ چلا تو ہندوؤں نے بہادر شاہ ظفر اور مسلمانوں کے خلاف گواہیاں دیں۔جس کی تفصیل کتاب بہادر شاہ کا مقدمہ میں نہیں ملتی ہے۔عدالت کی طرف سے سوال کیا گیا کہ انگریز گورنمنٹ کے برخلاف کیا ہندو اور مسلمانوں کے جذبات میں کچھ فرق تھا؟ اس کے جواب میں ایک ہندو گواہ جاٹ مل نے کہا۔جی ضرور تھا۔مسلمان متفقہ طور پر گورنمنٹ برطانیہ کوالٹ دینے کے درپے تھے۔مگر بڑے بڑے ہندو تاجروں اور ساہوکاروں میں اس پر اظہار افسوس کیا جاتا تھا۔(صفحہ ۳۵) اور تو اور بہادر شاہ ظفر کے سیکرٹری مکند لال نے اپنی گواہی میں کہہ دیا کہ جب باقی سواروں نے بادشاہ کے سامنے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ ہندوستان کے تمام انگریز قتل کر دیئے جائیں گے تو بادشاہ نے کہا اگر ان کی یہی خواہش ہے تو انہیں آخر یوقت تک ساتھ دینا ہو گا۔اور اگر اس پر وہ رضامند ہوں تو شوق سے چلے آئیں اور تمام انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیں جب انہوں نے رضامندی ظاہر کی تو بادشاہ نے انہیں آنے دیا۔(صفحہ ۸۶) جب اس سے پوچھا گیا کہ اس غدر سے قبل کیا مسلمانوں نے کبھی سازش کی تو اس نے جواب دیا جو نمی باقی آئے مسلمان فی الفور ان سے مل گئے کیا اس سے نہیں معلوم ہو تا کہ ان میں پہلے سے ربط و ضبط تھا۔( صفحه ۸۸) دہلی کی جان کنی اور داستان غدر میں اس قتل عام کی درد ناک تفصیل موجود ہے جسے پڑھ کر بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔دہلی میں سب سے زیادہ چیلوں کے کوچہ پر مصیبت آئی۔اس محلہ میں بڑے بڑے شرفاء اور نامور علماء رہتے تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ و حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کا گھرانا اسی محلہ میں آباد تھا۔سرسید احمد خاں کا گھر بھی اسی محلہ کے ایک حصہ میں تھا منشی ذکاء اللہ خاں بھی اس محلہ کے باشندے تھے۔منشی ذکاء اللہ خان لکھتے ہیں کہ اس محلہ کی مصیبت کا سبب یہ ہوا کہ ایک مسلمان نے کسی انگریزی سپاہی کو زخمی کردیا تھا۔انگریزی کمان افسر نے حکم دیا کہ اس کو چہ کے تمام مردوں کو قتل کر دو یا گرفتار کر کے لے آؤ۔اس حکم کی تعمیل میں ایسی بے دردی ہوئی کہ محلہ میں کوئی مرد زندہ نہ بچایا توسپاہیوں نے گھروں میں گھس کر مار ڈالا یا گر فتار کر کے حاکم کے سامنے لے گئے حاکم نے حکم دیا کہ سب کو دریا کے کنارے لے جاؤ اور گولی مار دو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ان لوگوں کو رسی سے باندھا گیا دریا کی ریتی میں قطار بنا کر کھڑا کیا گیا اور گولیوں کی باڑھ ان پر چلائی گئی جس سے (رد کے سوا سب مرکز گر پڑے ان مقتولین میں دو چاند سورج بھی تھے۔ایک مولانا امام بخش مبہائی جن کی فارسی دانی تمام ہندوستان میں مسلم تھی۔مولانا مبہائی کے ساتھ ان کے کنبہ کے اکیس آدمی اس قطار میں مارے گئے۔مقتولین میں دوسرے نامور شخص سید محمد امیر عرف میں پنجہ کش تھے جن کی خوشنویسی کا لوہا تمام ہندوستان مانتا تھا۔اور ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے حرف سونے چاندی کے عوض خریدے جاتے تھے۔وہ بھکاری فقیروں کو ایک حرف لکھ کر دے دیتے جو ایک روپیہ کے نوٹ کی طرح ہر جگہ روپیہ کو بک جاتا تھا۔افسوس کہ یہ صاحب کمال بھی دریا کی ریتی میں مار آگیا۔شیفتہ کا شعر ہے۔۔دلی اب ہے تن بیجاں کیا خاک- جاں سے جاچکے جو لوگ تھے جان دہلی۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ جس شہر میں یہ بے رحمیاں ہو رہی تھیں اسی شہر میں ایسے رحمدل انگریز بھی تھے جو بے گناہوں کی حمایت کرتے ھے لاوارثوں کے وارث بن کر ان کی طرف سے حکام کے پاس سفارش لے جاتے تھے بہاروں اور زلمیوں کو ہسپتال بھجواتے اپنے پاس سے بھوکوں محتاجوں کو کھانا دیتے اور کوشش کرتے تھے کہ حکام دہلی سے بے گناہ لوگوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہونے پائے۔مگر ان کی کوشش دو وجہ سے اکثرنا کام رہتی تھی ایک تو یہ کہ اختیارات عموماً ان انگریزوں کے ہاتھ میں تھے جن کے ہاں بچے باغیوں کے ہاتھ سے بے گناہ مارے گئے تھے۔اور ان کے گھروں کو لوٹا گیا تھا۔اور ان کو رہ رہ کر اپنے گھروں کی تباہی اور اپنے بچوں اور عورتوں کا بے کسی و ظلم سے مارا جانا یاد آتا تھا۔اور اس یاد کے سبب غم و غصہ عقل پر پر دے ڈالتا تھا اور وہ حق و ناحق میں اچھی طرح تمیز نہ کر سکتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ خود مخبروں نے سفاکی پر کر باندھ لی تھی۔فرض سب انگریز ہے رقم نہیں تھے۔سر جان لارنس کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے کہ انہوں نے اس قیامت کے وقت دہلی اور ان کے شریف باشندوں کی اپنی زور دار تحریروں میں ہمیشہ حمایت کی مگر اس کے بر عکس ہڈسن جیسے ظالم و سفاک انگریزوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کر سکتی جس نے مغل شہزادوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور ان کے سرکاٹ کر معزول ہے جان اور بوڑھے بادشاہ کے سامنے رکھ دیئے کہ یہ آپ کی نذر ہے جو بند ہو گئی تھی اور جس کو جاری کرانے کے لئے آپ نے غدر میں شرکت کی تھی۔ریلی کی جان کنی۔مولفہ شمس العلماء خواجہ حسن نظامی دہلوی)