تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 546
ریت - جلد 4 ۵۳۲ ظمیری بیوی داستان غدر میں لکھتے ہیں کہ اس موقعہ پر بہادر شاہ ظفر نے سواران بافیہ سے کہا کہ۔میرے باپ دادا بادشاہ تھے جن کے قبضہ میں ہندوستان تھا۔سلطنت تو سو برس پہلے میرے گھر سے جاچکی تھی۔میرے جدد آباد کے نو کر جا کر اپنے خاوندان نعمت کی اطاعت سے جداگانہ رئیس بن بیٹھے۔میرے باپ دادا کے قبضہ سے ملک نکل گیا۔قوت لایموت کو محتاج ہو گئے۔خصوصاً میرے جد بزرگوار حضرت شاہ عالم بادشاہ نمازی کو جب غلام قادر نمک حرام نے قید کر کے نابینا کیا ہے تو پہلے مرہٹوں کو طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے اس نمک حرام کو کیفر کردار کو پہنچایا حضرت بادشاہ کو قید سے چھڑایا چند سال مرہٹے بادشاہ کی جانب سے مختار رہے مگر بادشاہ کے صرف مطبع کا بندوبست نہ کر سکے۔لاچار ہو کر میرے دادا نے منجانب سلطنت برطانیہ رجوع کی اور انگریزوں کو بلوا کر اپنے گھر کا کار فرمایا اور ملک ہندوستان ان کے تفویض کیا اور ان لوگوں نے حسب دلخواہ الخرجات شاہی کا بندو بست کر دیا اور ملک میں امن وامان کا ڈنکا بجا دیا۔اس روز سے آج تک ہم لوگ بہ عیش و عشرت تمام بسر کرتے چلے آتے ہیں۔میں تو ایک گوشہ نشین آدمی ہوں۔مجھے ستانے کیوں آئے۔میرے پاس خزانہ نہیں کہ میں تم کو تنخواہ دوں گا میرے پاس فوج نہیں کہ میں تمہاری امداد کروں گا۔میرے پاس ملک نہیں کہ تحصیل کر کے تمہیں رکھوں گا میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں مجھ سے کسی طرح کی توقع استعانت کی نہ رکھو۔تم جانو یہ لوگ جائیں۔(داستان نیدر صفحه ۵۰۰۴۹ مطبع کریمی لاہور) - کپتان ڈگلس =j+ مسٹر سمن فریزر بہادر شاہ کا مقدمہ (مولفہ خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی) صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۹ خواجہ حسن نظامی دہلوی کی مولفہ کتاب بہادر شاہ کا مقدمہ کے صفحہ 9ے پر ایک گواہ کی شہادت درج ہے کہ " مجھے خیال ہے کہ جب فوجیں پہلے پہل میرٹھ سے آئیں تو ہندوؤں نے بادشاہ سے عہد کرالیا کہ شہر میں گاؤ کشی نہ کی جائے اور یہ حمد بر قرار رکھا گیا۔تمام ایام غدر تک دہلی میں اس عہد کے سبب ایک گائے بھی نہیں کاٹی گئی بقر عید کے موقعہ پر جبکہ مسلمان یقینی گائے کی قربانی کیا کرتے ہیں ایک بے چینی پھیل گئی تھی مگر مسلمانوں نے اس موقعہ پر بھی گائے کی قربانی نہیں کی۔تاریخ عروج عهد سلطنت انگلشیہ ہند صفحہ ۶۲۰ (مولفہ خان بہادر شمس العلماء محمد کاء اللہ خاں) ۱۹۰۴ء سٹنس المطابع دہلی ایستاد علی کی جان کئی صفحه ۹۵-۹۶ ( از مشس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی) -۱۴ داستان خدر صفحه ۹۸ ۱۵ داستان غدر میں ہندوؤں کی سربراہی کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے مثالی صفحہ ۶۵ پر لکھا ہے۔پھاٹک سے باہر نکلا ہوں تو دیکھا کہ تین چار سوار کرتے پہنے اور دھوتیاں باندھے ہوئے سرسے ایک چھوٹا سا انحمو چھہ لپٹا ہو ا فقط ایک کرچ ڈاب میں اور وہ پیپل کے درخت کے سایہ میں نہر کی دیوار سے لگے کھڑے ہیں اور ہندو لوگ ان کی سربراہی کر رہے ہیں کوئی پوریاں لے آیا ہے کوئی مٹھائی کا دونہ لئے آتا ہے۔بہادر شاہ کا مقدمہ صفحه ۲۳۴ ا بہادر شاہ کا مقدمہ صفحہ ۲۴۰ ۱۸ اسباب بغاوت ہند صفحه ۱۰۴ تا ۱۰۹ ۱۴ رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۶۰ صفحه ۲۸۸- ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس شمارہ کے صفحہ ۲۹۴ حاشیہ پر اس انگریزی چٹھی کا متن شائع کیا جو جی۔ڈی ٹر ملٹ بنگال سول سروس کمشنر دہلی نے سید نذیر حسین صاحب دہلوی کو ان کے زیارت کعبہ پر جاتے وقت دی تھی اور جس میں لکھا تھا کہ مولوی صاحب موصوف دہلی کے ایک بڑے نامور عالم ہیں جنہوں نے مشکل وقتوں میں اپنی نمک حلالی گورنمنٹ پر ثابت کی ہے۔۲۰ اشاعۃ السنہ جلد نمبر صفحه ۱۲ بابت ۱۳۵۳ھ بمطابق ۲۱۸۸۶ ۲۱ اشاعۃ السنہ جلد نمبر صفحه ۳۱۰/۲۵٬۳۰۹/۲۹ (۶۱۸۸۶) ۲۲ ولادت ۱۸۴۲ م وفات ۶۱۹۱۸ ۲۳ تاریخ اقوام عالم صفحه ۶۳۹ ( از مرتضی احمد خان ناشر مجلس ترقی ادب نمبر ۲ از سنگھ راس گارڈن کلب روڈلاہور)