تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 533 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 533

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ وره ہی واقع ہے اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے لیکن ذرائس سے مس نہ ہوئے۔ان کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹپکا۔ان کے سنگین دلوں پر کوئی چوٹ نہیں لگی۔ان کے سینوں سے کوئی آہ سرد نہیں نکلی۔بلکہ وہ اپنے دفتر میں یہ کہتے ہوئے سنے گئے دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ مسلمان دشمنان اسلام کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔میرا مرنا ان کے گھر شادی ہوا خون کے چھاپے لگے دیوار پر كثر التعداد مسلمان زخمی اور شہید ہو گئے اور بیسیوں عورتیں بیوہ اور سینکڑوں بچے یتیم ہو گئے۔مسلمانوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ہر مومن قانت کا دل خون اور جگر پاش پاش ہو گیا۔لیکن زعماء مجلس احرار کے پاس ان شہداء کی نذر کے لئے سوائے ایک خندہ دندان نما اور طعنہ جگر پاش کے کچھ بھی نہ نکلا۔مسلمانان لاہور میں مجلس احرار کی اس صبر آزما اسلام کش اور انسانیت سوز روش کے خلاف ایک میجان عظیم پیدا ہو گیا اور اس پر ہر طرف سے گالیوں اور تیروں کی بارش ہونے لگی"۔2 مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار اخبار اہلحدیث امرتسر اہلحدیث" میں لکھا۔احرار مسجد شہید گنج لاہور کی وجہ سے آج کل خاص و عام کے مورد عتاب ہیں۔پبلک ان پر آوازے کستی ہے۔ان کی تقریروں میں رخنہ اندازی ہوتی ہے۔منہ سے ناملائم الفاظ کہتی ہے بلکہ ہاتھوں سے بھی ناشائستہ افعال کرتی ہے "۔اخبار "سرپنچ لکھنو - اخبار سر پیچ لکھنو نے ۳۱/ اگست ۱۹۳۵ء کے پرچہ میں حسب ذیل اداریہ لکھا۔" " پنجاب کے امیر شریعت اور جماعت احرار کے ناخد ا حضرت مولانا مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا اثر و اقتدار لاہور کی مسجد شہید گنج کے ساتھ کچھ ایسا شہید ہوا ہے کہ۔ع پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں پنجاب میں تو معاصرین "زمیندار" "سیاست" "احسان " اور "انقلاب" نے ان بزرگ و محترم کو کچھ اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ وہاں آپ کی دال گل ہی نہیں سکتی اور سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ آپ کیا ہیں اور آپ کا مشن کیا ہے۔لیکن پنجاب کے باہر بھی آپ جس صورت سے عذر گناہ فرماتے پھرتے ہیں وہ بد تر از گناہ ہو جاتا ہے۔مسجد کی شہادت کے وقت آپ کی اور آپ کی جماعت ]