تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 523 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 523

تاریخ احمدیت جلد ۶ نہ کرنے کار از طشت ازبام ہو گیا ہے اور بالاخر مسلمان اس راز سے آگاہ ہو گئے ہیں ؟۔اسی طرح اخبار " انقلاب " لاہور (۱۱/ اگست ۱۹۳۵ء) نے لکھا۔"جب مسجد شہید گنج کا ہنگامہ جاری تھا مسلم پر تنگ پریس سے جہاں "انقلاب" چھپتا ہے کسی مسلمان نے ایک پوسٹر چھپوایا جس میں احرار اسلام کی عدم شرکت پر چوٹیں کی گئی تھیں اور حکومت کے خلاف ایک لفظ بھی موجود نہ تھا۔یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ہمارے پریس میں یہ پوسٹر ہماری اطلاع یا اجازت کے بغیر نیجر صاحب نے خود ہی چھاپ دیا لیکن ہماری حیرت کی کچھ انتہا نہ رہی جب دو چار روز کے بعد مسٹر پر تاپ ڈپٹی کمشنز لاہور کی طرف سے ہمیں ایک عتاب نامہ موصول ہوا۔جس میں درج تھا تم نے احرار کے خلاف فلاں پوسٹر شائع کیا ہے جو سخت قابل اعتراض ہے۔خبردار! اگر آئندہ ان حضرات کے خلاف اپنے پریس میں کچھ چھاپا۔کیوں نہ ہو ایک طرف دولتانہ پارٹی کے ساتھ اتحاد دو سری طرف اکالی پارٹی کے ساتھ اتحاد۔تیسری طرف وزارتیں ڈپٹی کمشنر صاحب کا اس میں کوئی قصور نہیں"۔مجلس احرار اور ہندو یہ سب کارروائی چونکہ کانگریس کے ہندو لیڈروں کے پروگرام کے عین مطابق ہوئی تھی اسی لئے اخبار ”ویر بھارت" نے مسجد شہید گنج کے بارے میں مجلس احرار کی روش کو سراہتے اور دوسرے مسلمانوں کی مذمت کرتے ہوئے لکھا۔" کیا مسلمان لیڈروںں کو اس بات کا احساس ہے یا کم از کم ان لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا کچھ احساس ہے جو ابھی تک یہ ہانک لگائے چلے جاتے ہیں کہ احرار نے غداری کی ہے۔کیا ان لوگوں نے ابھی تک یہ محسوس نہیں کیا کہ احرار کا مشورہ نہ صرف مخلصانہ ہے بلکہ دانشمندانہ بھی ہے اور غداری احرار نے نہیں کی بلکہ ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو خطرہ سے باہر رکھتے ہوئے عوام کو آگ میں دھکیل دیا۔جنہوں نے عامتہ المسلمین کے جوش کو فرو کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس جوش میں مزید ابال پیدا کئے اور جن میں سے بعض کی حالت اس وقت یہ ہے کہ وہ نہ خود آگے آتے ہیں نہ کوئی ذمہ داری لیتے ہیں نہ کوئی صحیح مشورہ دیتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی سب سے بڑی خدمت صرف یہی سمجھتے ہیں کہ مشورہ دینے والوں کی مذمت کریں"۔اس کے علاوہ ڈاکٹر ستیہ پال صاحب نے لاہور میں تقریر کی کہ۔میں مجلس احرار کے کام سے بہت خوش ہوں اور انہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے نہایت جرات اور استقلال سے اپنے ہم مذہبوں سے بھی قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر ٹکر لے لی۔اور یہ سب سے بھاری قربانی ہے جو ہمارے احراری دوستوں نے سرانجام دی ہے اور مجلس احرار یقینا ملک