تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 506 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 506

تاریخ احمد بیت ت - جلد ۶ گھروں میں دن دہاڑے گھس کر مال لوٹ لیا گیا۔۳۵۹ مڈھ رانجھہ (ضلع سرگودھا) کے ایک احمدی حاجی برخوردار صاحب کی نعش قبرستان میں دفن کرنے سے روک دی گئی۔بٹالہ کے ایک غریب احمدی دکاندار پر حملہ کیا گیا۔۱۷- پشاور میں ۱۹ جون ۱۹۳۵ء کو ایک احراری والٹیر عبد العزیز نے حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کو گولی کا نشانہ بنانا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت سے حضرت قاضی صاحب بال بال بچ -19 گئے۔۳۶۲ منجن گڑھ (علاقہ میسور) میں ۱۶ جون ۱۹۳۵ء کو ایک احمدی مبلغ کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور ایک ہزار وی مولوی نے ان کی کتابیں کاغذ اور نقدی چھین لی۔میانجی خیل (علاقہ کو ہاٹ) میں ایک مخلص احمدی یحی الدین صاحب کو مخالفین نے مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ٹانگ پر ایسا کاری زخم آیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے لنگڑے ہو گئے اس کے بعد جولائی ۱۹۳۵ء میں ایک دشمن کے ہاتھوں سخت مجروح ہوئے یہ حملہ رات کے بارہ بجے اس وقت کیا گیا جبکہ آپ سو رہے تھے اس حملہ میں مولوی صاحب موصوف کو ایک زخم سر پر آیا اور ایک چوٹ سینے پر لگی۔۲۰ بنگلور شہر کے احمد کی سید عبد الرزاق صاحب اتنے بیٹے گئے کہ آپ زمین پر گر پڑے - 1 ۲۱- گوجرہ میں تین احمدیوں میاں عبد الواحد صاحب پہلوان وغیرہ کے خلاف احراریوں نے دفعہ ۴۵۲ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا جو کئی ماہ تک چلتا رہا - 1 احراریوں کو اشاعت اسلام کے لئے مالی و جانی قربانیوں کا چیلنج حضرت علیقہ المسیح الثانی نے ۸/ مارچ " ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں احرار کو چیلنج دیا کہ۔وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والے ہیں۔وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا د ر د احمدیوں کے دلوں میں نہیں۔وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی اسلام کے دشمن اور رسول کریم ایسے عناد رکھتے ہیں میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم چھپن ہزار ہیں۔اگر وہ اپنے دعوئی میں بچے ہیں تو آئیں اور غیر قوموں یعنی ہندوؤں اور عیسائیوں وغیرہ کو مسلمان بنانے کے لئے وہ بھی قربانیاں کریں اور ہم بھی قربانیاں کرتے ہیں وہ بھی آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کو لے کر اشاعت اسلام