تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 484 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 484

تاریخ احمدیت جلد ؟ جماعت تک نہیں پہنچ سکتا۔علماء نہیں پہنچ سکتے۔اس لئے ایک موقع پر سب لوگ آکر جمع ہو جاتے اور سن جاتے ہیں لیکن یہاں ان کا کوئی عالم نہ تھا سننے والے اور سنانے والے سب باہر سے آئے تھے۔اور اس صورت میں وہ زیادہ آسانی کے ساتھ لاہور یا امرتسر میں جلسہ کر سکتے تھے۔لوگ یہاں امرتسر، لاہور ، جالندھر وغیرہ شہروں سے آئے۔بعض پشاور اور ملتان وغیرہ دور کے مقامات سے بھی محدود تعداد میں شریک ہوئے لیکن یہاں وہ کس کی تقریریں سننے آئے تھے۔ماموں کشمیری کی۔نورے کشمیری کی۔عزیز کشمیری کی۔قادیان کا کونساوہ باشندہ ہے جس کی تقریریں سننے کے لئے آئے تھے مولوی عطاء اللہ صاحب امرتسرمیں مولوی ظفر علی صاحب اور مولوی مظہر علی صاحب لاہور میں مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانہ میں رہتے ہیں۔انہیں لوگوں نے تقریریں کیں اس لئے اس اجتماع کے لئے بہترین جگہ لاہور یا امر تسر ہو سکتی تھی۔اگر وہاں جلسہ ہو تا تو ۲۰-۲۵ ہزار لوگ بھی جمع ہو سکتے اور اس طرح تعلیم و تربیت بھی اچھی طرح ہو سکتی تھی۔اور بہ نسبت قادیان کے رہائش اور طعام کا انتظام بھی بخوبی ہو سکتا تھا پس سوال یہ ہے کہ جب تقریریں کرنے والے اور سننے والے دونوں باہر سے آئے تو جلسہ یہاں کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ ایک ایسی عام بات ہے کہ حکومت اسے بخوبی سمجھ سکتی ہے جس صورت میں لیکچرار اور سامعین دونوں باہر سے آئے اور جس صورت میں کہ انتظام کا بھی مقامی لوگوں پر انحصار نہ تھا۔اس جلسہ کی غرض نہ تو تعلیمی ہو سکتی ہے نہ تبلیغی اور گور نمنٹ نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کیونکہ ہمیں وہاں جانے سے روک دیا گیا اور سننے سنانے والے دونوں باہر سے آئے پس ان لوگوں کا یہاں آنا سوائے فساد کے کسی اور غرض سے نہیں ہو سکتا۔ہم جو جلسے کرتے ہیں وہ تبلیغی ہوتے ہیں ہم کبھی یہ نہیں کہتے کہ پولیس مقرر کرو کوئی ہماری تقریریں سننے نہ آئے۔بلکہ ہمارا ڈھنڈورہ یہ ہوتا ہے کہ لوگو آؤ اور سنو اور سمجھو لیکن ان کا ڈھنڈورہ یہ تھا کہ ہر گز نہ آؤ۔پس ہمارے جلسوں کے اغراض واضح ہیں مگر ان کا یہ حال تھا کہ ایک گاؤں سکو ہا کو ایک احمدی نوجوان جار ہا تھا۔کیونکہ مشکو ہا جانے کا وہی راستہ ہے اس کی جیب میں دو اشتہار تھے جنہیں دیکھ کر ان لوگوں نے جو قادیان فتح کرنے آئے تھے شور مچادیا کہ یہ ٹریکٹ تقسیم کر رہا ہے۔فرض کرو وہ شخص ٹریکٹ ہی تقسیم کرنے کے لئے گیا تھا لیکن اگر ان کی غرض تبلیغ ہوتی تو وہ اس پر اس قدر شور نہ مچاتے بلکہ خوش ہوتے کہ ایک آدمی آگیا ہے جسے ہم تبلیغ کر سکیں گے۔مگر انہوں نے تو شور مچادیا کہ کیوں آیا ہے۔اسی طرح گورنمنٹ کا حکم تھا اور اعلان تھا کہ وہ لوگ احمدیوں کے محلوں میں نہ آئیں لیکن ہماری طرف سے ایسا کوئی اعلان نہ تھاوہ لوگ برابر آتے رہے اور ہمارے سب آدمی مقرر تھے کہ آنے والوں کے ساتھ پھریں۔انہیں اپنے ادارات دکھا ئیں اور حسب موقع تبلیغ بھی کریں پس یہ ثابت ہے کہ ان کا یہ جلسہ نہ تو تبلیغی تھا نہ