تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 480 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 480

تاریخ احمد بیت - جلد ۶ ۲۹۴ کانفرنس کے پنڈال میں مسافروں کے کھانے وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔تنور والوں کی چند ایک دکانیں ضرور تھیں۔مگر پیسے خرچ کرنے کے باوجود خاطر خواہ کھانا میسر نہ آتا تھا اور غالبا یہی وجہ تھی کہ کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ کا رخ کرتے اور وہاں سے کھانا کھاتے رہے۔منتظمین لنگر خانه ان آنے والے معزز مہمانوں کو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا پورا کرنے وانا یقین کرتے اور ان کی خاطر تواضع میں مصروف رہتے۔احرار کی طرف سے عام مہمانوں کے لئے سونے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا اور چونکہ پولیس کی طرف سے رات کے وقت شہر میں آنا ممنوع تھا۔اس لئے بہت سے لوگ شہر سے باہر احمدیوں کے اینٹوں کے بھٹوں پر آگ تاپ تاپ کر صبح کرتے رہے۔بعض لوگ دو رو نزدیک کے احمدی رشتہ داروں اور وافقوں کے یہاں قیام پذیر ہوئے۔جماعت احمدیہ کے اس پر امن رویہ کے مقابل بعض شوریدہ سرلوگ اس موقعہ پر احمدیوں کے گھروں میں گھس آئے بلکہ خود حضور کی کوٹھی ”دار الحمد" کے احاطے میں بھی داخل ہو گئے۔مگر کسی نے ان سے کچھ نہ کہا حالانکہ کسی کے گھر میں داخل ہونے والوں پر قانونی گرفت کی جاسکتی تھی۔جیسا کہ ذکر آچکا ہے اس موقعہ پر حکومت کی طرف سے پولیس کا خاصا انتظام تھا۔چار سو کی تعداد میں پولیس متعین کی گئی جس کی نگرانی کے لئے پولیس افسروں اور دیگر حکام کا عملہ مقرر تھا۔ایک دستہ سوار پولیس اور کئی دستے مسلح پولیس کے بھی تھے۔مسٹر شری نگیش ڈپٹی کمشنر کا کیمپ ( قادیان سے ۳۔۴ میل کے فاصلہ پر) ہر چووال میں تھا اور قادیان کے انتظام کی براہ راست نگرانی مسٹر بیٹ صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کے ہاتھ میں تھی۔۱۲۹۵ تبلیغ کانفرنس" کے عمومی کوائف پر ایک سرسرنی اشتعال انگیزی کا افسوسناک مظاہرہ نظرڈالنے کے بعد اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ احرار تبلیغ کانفرنس " شروع سے لے کر آخر تک جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال پھیلانے کے لئے وقف رہی۔چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے (ہائیکورٹ کے حج کے الفاظ میں کئی ہزار کے مجمع میں پانچ گھنٹہ تک تقریر کی جس میں قادیانیوں ان کے رہنماؤں اور ان کی جماعت پر دشنام آمیز گندی زبان میں شدید حملے کئے "۔شاہ صاحب کی اس طویل تقریر کا خلاصہ سیشن جج گورداسپور کے الفاظ میں یہ تھا کہ ”اس نے اس اجلاس میں ایک جوش انگیز خطبہ دیا۔اس کی تقریر کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔بتایا گیا کہ حاضرین تقریر کے دوران میں بالکل مسحور تھے۔۔۔اس کے دل میں مرزا اور اس کے معتقدین کے خلاف جو نفرت کے جذبات موجزن تھے ان پر پردہ ڈالنے کی اس نے کوشش نہ کی۔۔۔۔۔اور اس کی تقریر کے سات اقتباسات درج ہیں۔