تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 479 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 479

۴۶۵ تاریخ احمدیت جلد ۷ صدر کے صدر مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی ایک زریں سیاہ جبہ پہنے ہوئے تشریف لائے اور تقریر کی کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کسی قادیانی نے ہمارے ہاں آکر ٹریکٹ تقسیم کئے ہیں اس لئے میں بحیثیت ر مجلس احرار ہند تمام مرزائیوں ، مرزا محمود اور افسران پولیس کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہمارے احاطہ میں کوئی مرزائی نہ آئے ورنہ فساد ہو جائے گا۔حبیب الرحمن صاحب کی اس حرکت سے اس نام نہاد تبلیغ کا نفرنس کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے"۔جلسہ گاہ میں نماز کا کوئی انتظام نہ تھا۔میں ظہر کے وقت وہیں موجود تھا کسی احراری سرخنے کو نماز نہیں پڑھتے دیکھا۔باقی لوگوں نے بھی نماز کی طرف توجہ نہیں دی۔جو نماز کے پابند تھے انہوں نے علیحدہ علیحدہ اپنی چھوٹی چھوٹی جماعتیں کرا ئیں۔اکٹھی جماعت نہیں ہوئی"۔TAN مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوئی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جن کے نام اشتہار میں دیئے گئے تھے کا نفرنس میں شامل نہیں ہوئے جس کی وجہ انہوں نے اہلحدیث " میں شائع کرا A4 دی تھی۔احرار کا نفرنس میں آنے والوں میں کافی تعداد ان لوگوں کی تھی جنہیں قادیان دیکھنے کا شوق یہاں کھینچ لایا تھا۔اگر چہ بہت کوشش کی گئی کہ لوگ احمدیوں کے پاس نہ جائیں ان کے دفاتر اور ادارے نہ دیکھیں حتی کہ صدر کا نفرنس نے بھی اس امر پر خاص زور دیا۔لیکن اس کے باوجود بہت لوگ فرداً فرداً یا چھوٹی چھوٹی پارٹیوں میں مختلف اوقات میں آتے رہے کا نفرنس کے ایام میں صبح سے لے کر شام تک سینکڑوں اشخاص کا سلسلہ کے دفاتر مساجد اور دوسرے مقامات مقدسہ میں تانتا لگا رہا۔احمدی ہر آنے والے کا خیر مقدم کرتے اور ان کو تمام مقامات دکھاتے اور سلسلہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔بعض لوگوں کو سلسلہ کا لٹریچر بھی اپنی گرہ سے خرید کر دیا۔بعض غیر احمدیوں نے خود بھی کتابیں خریدیں۔کئی لوگوں کی زبان سے یہ بھی نکلا کہ ہم سنتے کیا تھے اور نکلا کیا ہے۔بعض اصحاب نے مزید تحقیق کے لئے سالانہ جلسہ پر شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔اس کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں سے بعض ایسے خوش قسمت بھی تھے جن کی سعید فطرتیں انہیں کچھ عرصہ بعد جماعت احمدیہ میں کھینچ لائیں چنانچہ جماعت احمدیہ کے موجودہ مفتی مولانا ملک سیف الرحمن صاحب فاضل ( سابق جنرل سیکرٹری انجمن سیف الاسلام نیلہ گنبد لا ہو ر ) بھی انہیں خوش ۲۹۳ rar ۲۹۱ نصیبوں میں شامل ہیں۔کانفرنس کا اہتمام کرنے والوں نے نہ صرف دور دور تک سے چندہ وصول کیا تھا بلکہ گردو نواح کے دیہات میں گھوم کر دیہاتیوں سے آنا دانہ دال وغیرہ جو کچھ ملا اکٹھا کر لیا مگر اس کے باوجود احرار