تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 478
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ هم به سوم اس خطبہ کے بعد مقامی حکام نے یہ انوکھا حکم بھی جاری کر دیا کہ احمد ہی اپنے پاس کیمرے نہ رکھیں ورنہ فساد ہو جائے گا۔یہ حکم جیسا تھا ظاہر ہے لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جو ہر قیمت پر امن و امان کی فضا قائم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے احمدیوں کو کیمروں کے استعمال کی بھی ممانعت فرما دی۔احرار کی تبلیغ کانفرنس پر ایک نظر احرار کا نفرنس جس کی نسبت کئی ماہ سے اندرہی اندر تیاریاں کی جارہی تھیں ۲۱/ اکتوبر ۱۹۳۴ء سے لے کر ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۴ء تک جاری رہی یہ کانفرنس حدود قادیان سے باہر موضع رجادہ میں منعقد ہوئی اور اس کے لئے آریوں نے ڈی۔اے وی سکول اس کا بورڈنگ اور متصل اراضیات بڑی فراخ دلی سے پیش کر دیں چنانچہ آریہ پریس نے تخریہ انداز میں لکھا کہ "ہم نے احراریوں کے لئے اپنی عمارتیں | FAL خالی کر دیں۔کنواں کھول دیا اور ان کے بڑے بڑے راہنماؤں کو اپنے سکول میں ٹھہرایا"۔کانفرنس میں شامل ہونے والوں کے اسٹیشن پر پہنچتے ہی پیادہ اور سوار پولیس انہیں اپنے پہرہ میں لے کر آریہ سکول تک پہنچا دیتی تھی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری (صدر کا نفرنس) بذریعہ لاری امر تسر سے سیدھے جلسہ گاہ میں پہنچے تھے۔کانفرنس کے لئے ایک شامیانہ نصب تھا اور دکانوں اور رضا کاروں کے لئے چند چھولداریاں - اخبار "زمیندار" کی دکان بھی موجود تھی۔جہاں ضمانت نمبر کے گٹھے رکھے ہوئے تھے ساتھ ہی احسان " کی دکان تھی۔اخبار "پیغام صلح " لاہور کے نامہ نگار خصوصی کا بیان ہے کہ ” میں جلسہ گاہ کے احاطہ کے اندر داخل ہوا تو دیکھا تین چار جگہ رضا کار کھڑے نہایت گندے اور اخلاق سوز اشعار احمدیت کی مخالفت میں پڑھ رہے ہیں۔ملانے ان کی بد زبانی پر پھولے نہیں سماتے۔چند آریہ اور سکھ بھی ان کی حرکتوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔میں نے اپنے مختصر قیام میں ایسے مناظر متعدد مرتبہ دیکھے اس کے علاوہ جلسہ گاہ میں قدم قدم پر احمدیت کے خلاف نہایت گندہ بازاری لٹریچر فروخت ہو رہا تھا"۔جلسہ گاہ میں پھر صبح والا نظارہ دکھائی دیا۔ہر طرف بد زبانی اور لفنگا پن کے اخلاق سوز نمونے نظر آئے۔بازاری گیت، بیہودہ نعروں کی آوازیں چاروں طرف سے کانوں میں آرہی تھیں۔۔۔۔جلسہ گاہ میں ایک پوسٹر تقسیم ہو رہا تھا۔جس میں لکھا تھا کہ چونکہ قادیانی اپنے جلسہ سالانہ پر سوال و جواب کا موقع نہیں دیتے۔اس لئے کسی مرزائی کو جلسہ گاہ میں پوسٹر ، اشتہارات اور پمفلٹ وغیرہ تقسیم کر کے ہمارے جذبات کو برانگیختہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ ہوگی اور اگر قادیان کے مختلف راستوں پر کسی احمدی نے کسی قسم کے اشتہارات تقسیم کئے یا زبانی بحث و مباحثہ کیا تو نتائج کے ذمہ داروہ خود ہوں گے۔۔۔احراریوں نے اس پوسٹر کی تقسیم پر ہی بس نہ کی بلکہ شوخ کی دریدہ دہنی کے بعد مجلس احرار