تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 466
۴۵۲ - جلد ۶ سولہواں واقعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے ایک شخص نے گزشتہ دنوں ایک سولہواں واقعہ ٹریکٹ لکھا تھا اس کے الفاظ سخت تھے اور گو اس کے مقابلہ میں بیسیوں مثالیں اس امر کی نظر آتی ہیں کہ احمدیوں کو گندی سے گندی گالیاں دی گئیں اور ٹریکٹ اور اشتہاروں میں گالیوں کو شائع کیا گیا۔مگر ہم نے اس ٹریکٹ کو فورا ضبط کر لیا اور اس کے خلاف نفرت کا اظہار کیا۔حالانکہ دوسرے مسلمانوں نے آج تک اپنے کسی آدمی کے متعلق ایسا نہیں کیا۔اس کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے اس احمدی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزادی گئی لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق سخت سے سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور گندی سے گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور اگر توجہ کی بھی جائے تو معمولی وار تنگ کر دی جاتی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ قانون دو کیوں ہیں؟ ہمارے متعلق گند اچھالا جائے تو محض وار ننگ کی جاتی ہے لیکن اگر ہمارا آدمی کوئی سخت لفظ لکھ دے تو اس پر مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ا- نتائج یہ سولہ مثالیں ہیں جو میں نے پیش کی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ۔ایک عرصہ سے جماعت کو بد نام کرنے کی کوشش حکومت کے بعض افسران کی طرف سے کی جارہی ہے۔یہ کو شش چند ماہ سے بہت بڑھ گئی ہے۔ہمارے خلاف جو شکایات کی جاتی ہیں جب وہ جھوٹی ثابت ہو جاتی ہیں تو پھر بھی بعض اعلیٰ افسر تک انہیں دہراتے رہتے ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ اصل غرض ہمیں بد نام کرنا ہے نہ کہ حقیقت معلوم کرنا۔جماعت کے کارکنوں اور جماعت کو حتی کہ خود امام جماعت احمدیہ کو بلاوجہ پریشان کیا جاتا ہے اور ان کا وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ہمارے خلاف شرارت کرنے والے سرکاری ملازموں کے متعلق اول تو تحقیق ہی نہیں کی جاتی اگر تحقیق کی جاتی ہے تو پھر ان کے جھوٹے ثابت ہو جانے پر بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی جس سے شرارتیوں کی جرات بڑھتی ہے۔ذمہ دار سرکاری افسر جماعت کے کارکنوں اور امام جماعت احمدیہ کی ہتک کرتے ہیں اور پھر اس پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک جاکر بالا افسروں سے کہہ دو۔پہلے ہم سے تعاون کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور جب ہم حکام کی بات تسلیم کر لیتے ہیں تو دوسرے