تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 464 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 464

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۵۰ ہمیشہ ایک سکھ تھانیدار رہا کرے گا۔اسی طرح ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے ہمیں ننکانہ صاحب میں مستقل طور پر سکھ تھانیدار کے مقرر ہونے کا کوئی رنج نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں چشم ما روشن دل ماشاد - لیکن جس طرح ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس مقام ہے اسی طرح ہمارا بھی یہ مقدس مقام ہے اور جس طرح وہاں کثرت سے سکھوں کی جائیدادیں ہیں اسی طرح یہاں بھی ہماری جماعت کی کثرت سے جائدادیں ہیں غرض وہ ساری باتیں جو ننکانہ صاحب میں سکھوں کو حاصل ہیں وہ احمدی افراد کو قادیان میں حاصل ہیں پس یہاں کم از کم پولیس کا ایک حصہ مستقل طور پر احمدی ہونا چاہئے تھا۔مگر لطیفہ یہ ہے کہ ایک کانسٹیبل آیا اور اسے بھی فورا تبدیل کر دیا گیا۔جو صاف بتاتا ہے کہ احمد یہ جماعت پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔چودھواں واقعہ چودھواں واقعہ یہ ہے کہ ای جلیہ A احرار کے موقعہ پر ایک تھانیدار نے رپورٹ کی کہ احمدی اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں ہم نے اپنی جماعت کو حکام کی خواہش پر ہدایت کر دی تھی کہ احرار کو جاکر لٹریچر نہ دیا جائے۔پھر اس کے بعد یہ خیال کرتے ہوئے کہ چونکہ محلوں میں سے احراری گزرتے ہیں اس لئے اگر انہیں لٹریچر دیا گیا تو ممکن ہے اس سے بھی کوئی فتنہ کا دروازہ کھل جائے اس لئے محلوں میں بھی لٹریچر تقسیم کرنا منع کر دیا گیا تھا۔مگر احراریوں کے دوستوں نے چونکہ فتنہ کھڑا کرنا تھا اس لئے انہوں نے یہ شکایت کی کہ احمد یہ لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے ثبوت میں یہ بیان کیا گیا کہ ایک باور دی تھانیدار کو لٹریچر دیا گیا ہے اگر اسے درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو تھانیدار کو لٹریچر دینے سے احراریوں میں جوش کس طرح پھیل سکتا تھا۔جب تک کہ وہ خود در پرده احراری نہ ہو میں ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ گورنمنٹ پنجاب کا بھی یہ منشاء ہو کہ ہم لٹریچر تقسیم نہ کریں کیونکہ ہم ایک تبلیغی جماعت ہیں اور ہمیں تبلیغی لٹریچر کی تقسیم سے کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا۔لیکن جب ان کی طرف سے کہا گیا کہ لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے تو ہمارے آدمیوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پیش کیجئے۔جن کو لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے اس پر ایک تھانیدار کو پیش کیا گیا کہ اسے لٹریچر دیا گیا ہے اور جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس نے لٹریچر دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ مجھے سید احمد نور صاحب کاہلی نے لٹریچر دیا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے۔پھر ممکن ہے ان کا نام بھی یونہی لے لیا گیا ہو اور جسے لٹریچر قرار دیا گیا ہو وہ ان کی کسی دوائی کے ساتھ کوئی اشتہار ہو مگر بہر حال جب سلسلہ کے کارکنوں نے تحقیق کی تو ثابت ہوا کہ یہاں کے چوکیداروں کا جو دفعدار ہے۔۔۔اس نے کسی دکاندار سے جاکر لٹریچر مانگا کہ پولیس والے مانگتے ہیں اور اس نے آگے اس تھانیدار کو وہ لٹریچر دیا اور اس کا نام فساد کرنا