تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 463 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 463

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۹ سے دریائے بیاس پر راکفل شوٹنگ کیا گیا۔۔۔بارھواں واقعہ - بارھواں واقعہ یہ ہے کہ جلسہ احرار کے موقعہ پر ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور ہر چو وال اترے ہوئے تھے۔وہاں انہوں نے جماعت کے چند افراد کہتا ہے } کو بلوایا اور گفتگو میں جب میرا ذکر کرتے تو دی مرزا - دی مرزا - THE MIRZA) کہہ کر ذکر کرتے۔اس پر ہماری جماعت کے ایک سیکرٹری نے چند بار سننے کے بعد ان سے کہا کہ صاحب آپ ہندوستانی ہیں۔اگر آپ انگریز ہوتے تو آپ کو معذور سمجھا جا سکتا تھا۔آپ کو معلوم ہے کہ ہم ان کو اپنا امام اور خلیفہ مانتے ہیں اور آپ کے ان کو صرف مرزا کہنے سے بڑا دکھ محسوس کرتے ہیں۔خان صاحب فرزند علی صاحب۔میاں شریف احمد صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب حلفیہ بیان دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اس کے جواب میں کہا۔میں اس کے متعلق آپ لوگوں کو کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔آپ نے جو کچھ ہے کمشنر صاحب سے کہیں جس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہ ہو سکتا تھا کہ کمشنر صاحب نے انہیں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہماری اور ہمارے سلسلے کی جنگ کریں۔ڈپٹی کمشنر صاحب کے متعلق ایک اور موقعہ پر بھی دیکھا گیا ہے کہ جب وہ ہماری جماعت کے ذمہ دار افسروں سے ملنا چاہتے تو کہتے میں نے فرزند علی سے ملنا ہے۔شریف احمد سے ملنا ہے۔اخلاق کا برتاؤ کسی قانون کے ماتحت نہیں ہو تا۔کون سا قانون ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ڈپٹی کمشنر کو مسٹر کہا کریں۔ہمارے ہندوستانی ہمیشہ بات کرتے وقت صاحب یا جناب کہنے کے عادی ہیں پس اگر ان احساسات کو مد نظر نہ رکھا گیا اور یہ کھیل کھیلنی شروع کر دی گئی۔تو ہماری جماعت سے بھی وہ توقع نہیں رکھ سکیں گے کہ ہم آداب کے ساتھ ان کا نام لیا کریں۔اس صورت میں بالکل ممکن ہے کہ ہم اگر کوئی مرہٹہ ہو تو اس کو کہہ دیں او مرہٹے اور پنڈت ہو تو ار پنڈت یا لالہ ہو۔تو اولالے کہہ دیں۔پس اگر ہمارے جذبات کے ساتھ کھیل سکتے ہیں تو ہم بھی انہیں پنڈت اور لالہ کہہ سکتے ہیں لیکن یہ کھیل اگر کھیلا گیا تو بڑا گندہ کھیل ہو گا اور اخلاق سے سخت گری ہوئی بات ہو گی اور اس کے نتائج ایسے خطرناک نکلیں گے کہ نہ صرف لوگوں کے اخلاق بگڑیں گے بلکہ گورنمنٹ کا نظام بھی اس سے خراب ہو گا۔تیرھواں واقعہ یہ ہے کہ یہاں پر ایک احمدی کانسٹیبل متعین ہوا۔مگر چند ہی دنوں تیرھواں واقعہ کے بعد اسے یہاں سے بدل دیا گیا۔احراریوں کے ہم مذہب کانسٹیبل یہاں ڈیڑھ ڈیڑھ سال سے کام کر رہے ہیں مگر انہیں تبدیل نہیں کیا جاتا۔اول تو قادیان ہماری جماعت کا مرکز ہے اور چونکہ اس میں ہماری جماعت کی کثرت ہے اور ہماری وجہ سے ہی قادیان کو ترقی حاصل ہو رہی ہے۔اس لئے ہم یہ مطالبہ کر سکتے تھے کہ جیسے نکانہ صاحب میں سکھوں سے وعدہ کر لیا گیا ہے کہ وہاں