تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 462
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۴۸ ہے۔لیکن وہ محکمہ قضاء میں نہیں بلکہ امور عامہ میں کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔خان صاحب نے ساری عمر انگریزی نوکری کی انہوں نے اگر سمن کا لفظ استعمال کر لیا تو کوئی الزام کی بات نہیں تھی۔خصوصاً جبکہ سمن کے معنے بلانے کے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے ہاں سمن کا لفظ نہیں ہوتا۔پھر ید کی اور مدعا علیہ کے الفاظ ہماری اپنی زبان کے ہیں اگر ہم اپنی بولی نہ بولیں تو اور کیا کریں۔پس ہمارا جرم صرف یہ کے الفاظ اپنی زبان کے ہی اگر ہم یہ ہوئی نہ بولی اور ہے کہ ہم نے اپنی زبان کے چند الفاظ استعمال کئے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہم لوگوں کے مقدمات سنتے ہیں مگر ان کی مرضی سے کوئی مار کر انہیں اپنی جماعت میں شامل نہیں کرتا۔پس جب وہ اپنی مرضی سے ہمارے سامنے مقدمات پیش کرتے ہیں اور ایسے مقدمات جن کے پرائیویٹ تصفیہ کی حکومت نے اجازت دے رکھی ہے۔تو ان کا تصفیہ متوازی حکومت کس طرح کہلا سکتا ہے آئندہ کے لئے حکومت یہ فیصلہ کر دے کہ دیوانی مقدمات میں بھی سمجھوتے کرانے ناجائز ہیں اور معمولی چھیڑ چھاڑ اور معمولی مار پیٹ کے واقعات بھی ضرور گورنمنٹ کی عدالت میں لانے چاہئیں تو اس کے بعد ایک کیس بھی ہم من جائیں تو وہ متوازی حکومت کا الزام ہم پر لگا سکتی ہے لیکن جب ایک طرف وہ مقدمات سننے کی اجازت دیتی ہے تو پھر دو سری طرف اس کا یہ الزام لگانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا اور لوگوں کو یہ الزام لگانے کا موقعہ ملتا ہے کہ حکومت اپنے اعلانات میں سچ سے کام نہیں لیتی۔گیارھواں واقعہ گیارھواں واقعہ یہ ہے کہ کہا گیا ۱۹۳۳ء میں دریائے بیاس پر احمد یہ کو رکے بعض نوجوان ٹریننگ کے لئے گئے اور انہوں نے وہاں پر رائفل شوٹنگ کیا اور یہ بات اتنے وثوق سے بیان کی گئی کہ جماعت احمدیہ کے ایک سیکرٹری سے حکومت پنجاب کے ایک ذمہ دار افسر نے اس کا ذکر جماعت کے متعلق شبہ کے طور پر کیا۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹی رپورٹ اور بے بنیاد بات تھی۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان کے کسی کانسٹیبل نے یہ رپورٹ کی۔حالانکہ قادیان کے کانٹیبل کا بیاس کے اس علاقہ سے جہاں ہمارے لوگ سیر کو جاتے ہیں۔کوئی تعلق نہیں وہاں کا تھانہ الگ ہے جو سری گوبند پور ہے۔اگر دریائے بیاس کے اس مقام پر رائفل شوٹنگ ہو تو تھا نہ اتنا نزدیک ہے کہ وہاں اس کی آواز بھی پہنچ سکتی ہے اس کے علاوہ پولیس کے آدمی گشت بھی لگاتے رہتے ہیں۔لیکن وہاں کی پولیس کو تو کچھ پتہ نہ تھا۔اور یہاں کی پولیس کے کانسٹیبل نے جھٹ رپورٹ کر دی۔اس پر پولیس کے اعلیٰ افسروں نے مقامی سب انسپکٹر کے ذریعہ سے تحقیقات کرائی اور سب پر تحقیقات کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ رپورٹ بالکل جھوٹی تھی اور وہ اس امر کو تسلیم کر گئے مگر گورنمنٹ کے ذمہ دار افسر ڈیڑھ دو سال کے بعد سلسلہ کے ایک ذمہ دار افسر سے شکایت کرتے ہیں کہ تمہاری طرف