تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 461
تاریخ احمد بیت - جلد ۶ جن مقدمات کا گھر میں فیصلہ کر لینے کی قانون اجازت دیتا ہے۔ان کا وہ گھر میں فیصلہ کر دیں گے۔اور یہ جرم ہم ہی نہیں کرتے۔سب اس جرم کے مرتکب ہیں۔حتی کہ بڑے بڑے انگریز افسر بھی اس سے بچے ہوئے نہیں۔بچے گھروں میں سے بلا پوچھے چیز اٹھا لیتے ہیں لفظ یہ چوری ہے۔نوکر کوئی چھوٹی موٹی چیز اٹھا لیتا ہے یہ بھی چوری ہے مگر کوئی انگریز افسر بھی ایسا ہے جو یہ کہے کہ وہ اس پر پولیس کے ذریعہ سے کارروائی کرواتا ہے عام طور پر ایسے واقعات میں لوگ نوکروں کو جرمانہ کر دیتے ہیں اور بچوں کے ذرا کان کھینچ کر چھوڑ دیتے ہیں اس قسم کے مقدمات اور وہ بھی پوری کے نہیں بلکہ بچوں وغیرہ کی عام مار پیٹ کے مقدمات ہماری جماعت میں بھی سن لئے جاتے ہیں۔پھر نا معلوم اس کا نام متوازی حکومت کس طرح رکھا گیا۔اور کس محاروہ کے مطابق رکھا گیا اگر یہ الزام ہم پر درست ہے تو ہر انگریز جس کا لڑکا بغیر پوچھے چاکو لیٹ کھا گیا ہو یا ہر انگریز جس کے بار رچی نے اس کی اجازت کے بغیر ایک انڈے کا استعمال کر لیا ہو اور اس نے اسے پولیس میں نہ بھیجا ہو متوازی حکومت قائم کرنے والا قرار پائے گا۔اور اس نئی اصطلاح کے ماتحت ہر گھر میں ہی ایک متوازی حکومت کا پتہ چل جائے گا اور شاید نیزوں والی خبر کے اصول پر ایسوی انٹر پریس کو یہ تار دینے کا حق حاصل ہو جائے کہ ہندوستان میں ایک گہری سازش کا انکشاف ہوا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ اندر ہی اندر ہزاروں حکومت کو الٹنے والی سازشیں ہو رہی ہیں اور متوازی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں۔مگر کیا یہ درست ہو گا ؟ پھر با امن شہریوں پر ایسے الزام لگانے سے یقینا حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی بلکہ کمزور ہوتی ہے اور لوگوں کا حکومت پر سے اعتبار اٹھتا ہے۔دو سرا ثبوت ان صاحب نے ہماری متوازی حکومت کا یہ دیا کہ تم مقدمات کے تصفیہ کے لئے لوگوں کو بلاتے وقت سمن جاری کرتے ہو اور مدعی اور مدعا علیہ کے الفاظ لکھتے ہو حالا نکہ سمن کے معنے بلانے کے ہیں اور مدعی اور مدعا علیہ ہماری عربی زبان کے الفاظ ہیں جو مسلمانوں ہی سے لئے گئے ہیں ہماری شریعت میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں پھر کیا اب ہماری اپنی لغت کے الفاظ استعمال کرنے سے۔بھی ہمیں روکا جائے گا۔کوئی غور کر کے بتائے کہ مدعی اور مدعا علیہ کے الفاظ لکھنے سے ہم متوازی حکومت قائم کرنے والے کس طرح بن گئے۔جو سمن جاری کرنے کا الزام ہم پر لگایا گیا ہے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اول تو یہ لفظ ہی ہمارے ہاں استعمال نہیں ہو تا صرف غلطی سے چند کاغذات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ ہماری قضاء کے محکمہ میں ہرگز یہ لفظ استعمال نہیں ہو تا ہمارے ہاں طریق یہ ہے کہ سادہ چٹھی لکھی جاتی ہے اور جسے بلانا ہو اسے بلا لیا جاتا ہے خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب انگریزی نوکری کرتے ہوئے آئے ہیں انہوں نے بعض مواقع پر غالبا سمن کا لفظ استعمال کیا