تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 29 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 29

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹ نہیں۔یہ چیزیں ایک ایسے مستقبل کو پیش کر رہی ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے احباب کی خدمات کی قیمت کا اندازہ کرنا چاہئے۔دراصل ان کی خدمات کی قیمت وہ چند روپے نہیں جو بطور مشاہرہ دیئے جاتے ہیں بلکہ جماعت کا آئندہ شاندار مستقبل ہے اور اس کا اندازہ خداتعالی ہی لگا سکتا ہے بندہ نہیں لگا سکتا۔اور جب یہ وقت آیا اس وقت ان کی خدمات کا اندازہ ہو سکے گا اور ان میں سے ہر ایک کام کرنے والا خواہ وہ چپڑاسی ہو یا ناظر الا ماشاء اللہ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں حصہ لے رہا ہے بظاہر تو یہی نظر آ رہا ہے کہ انتہائی ترقی کے مدارج ہم میں سے کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس دنیا کے تغیرات جو مومن سے تعلق رکھتے ہیں اسے بتائے جاتے ہیں۔حتی کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جو کوئی اس کی قبر پر جاتا ہے اس کا بھی اسے علم ہو جاتا ہے اگر چہ اس کے کان آنے والوں کے پاؤں کی آہٹ نہیں سنتے لیکن اللہ تعالٰی اسے اس کا علم ضرور دے دیتا ہے اس لئے جب وہ تغیرات پیدا ہوں گے تو ان میں حصہ لینے والوں کو اس کا علم ہو گا۔اور گو وہ اس دنیا میں نہیں ہوں گا مگر پھر بھی سلسلہ کی ترقیات کو معلوم کر کے ان کی روح خوشی اور مسرت سے بھر جائے گی اور وہ اس وقت اللہ تعالی کے حضور سجدہ کرے گی کہ اس نے مجھے بھی اپنے جسم کو اس میں استعمال کرنے کا موقعہ اور توفیق عطا فرمائی تھی۔ہمار ا نقطہ نگاہ مالی نتائج پر نہیں جو کارکنوں کو خدمات کے بدلہ میں ملتے ہیں بلکہ ان تغیرات پر ہے۔جس کا اندازہ سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔جنت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی باغات ہوں گے مگر پھر بھی رسول کریم ﷺ نے فرمایا لا عين رأت ولا أذن سمعت و لا خطر على قلب بشر حالانکہ قرآن پاک جنت کے نقشوں سے بھرا پڑا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں سلسلہ احمدیہ کی ترقیات کا نقشہ ہے اور آپ نے تفسیریں بھی کی ہیں۔لیکن وہ ساری قبل از وقت ہیں اور الفاظ وہ نقشہ کھینچ ہی نہیں سکتے جو آنے والا ہے۔اگر چہ ہم یہ مانتے ہیں کہ بڑے بڑے بادشاہ یہاں آئیں گے لیکن اس کا قیاس نہیں کر سکتے کہ کس طرح ان کی گردنیں احمدیت کے ہاتھ میں دے دی جائیں گی۔گویا جزئیات کو ہم نہیں سمجھ سکتے اور وہ جذبات ہم اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے جو اس وقت ہوں گے۔پس جو بھی سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتا ہے وہ دراصل ایک عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں کام کر رہا ہے اور اس کی مثال اس مونگے کی طرح ہے جو جزیرہ بناتے ہی اپنی جان ضائع کر دیتا ہے۔کو رل آگئی لینڈ کی تیاری میں ایک مونگا اپنی جان قربان کر دیتا ہے لیکن اسے کیا پتہ ہو تا ہے کہ اس کی قربانی کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے اس کی جان ضائع ہونے سے جزیرہ تیار ہوتا ہے۔جس میں انسان بستے اور خدا تعالیٰ کے