تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 460
تاریخ احمدیت - جلد ۷ ۴۴۶ اخلاق میں کمزور ہیں کیوں اس گند میں مبتلا نہ ہوں گے۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسوشیا شد پریس کی خبر گورنمنٹ کے کسی افسر کی طرف منسوب نہیں لیکن جبکہ مقامی اور بیرونی حکام سے ہم نے اس خبر کو اس رنگ میں سنا ہے اور جبکہ گورنمنٹ نے اس کی تردید بھی نہیں کی تو ہم مجبور ہیں کہ اس خبر کو گورنمنٹ کے حلقوں سے نکلی ہوئی سمجھیں۔لیکن میں حکومت کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر اس خبر میں صداقت ہے تو وہ ان آدمیوں کے نام شائع کرے جن کے پاس نیزے نکلے ہیں اور ان نیزوں کی تعداد شائع کرے اور پھر ہمیں اجازت دے کہ اس خبر کے شائع کرنے والوں کے خلاف ہم عدالتی چارہ جوئی کریں۔اگر اس کے نتیجہ میں حکومت کے نمائندوں کو فتح ہو گئی تو ہمارا جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔ورنہ حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے بعض کل پرزے اس وقت نہایت خراب اور گندے ہو گئے ہیں اور اسے پرانی مشینری کی طرح کامل صفائی اور مرمت کی ضرورت ہے اگر حکومت نے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا تو وہ یاد رکھے کہ آئندہ اس کی بات پر اعتبار کرنالوگوں کے لئے مشکل ہو گا اور جوں جوں یہ بات لوگوں میں پھیلے گی۔وہ حیران ہوں گے کہ حکومت نے اپنے افسروں سے اس قدر بڑا جھوٹ دیکھ کر کیوں کر خاموشی اختیار کی جبکہ اس کے برخلاف اگر حکومت سچ کی تائید کرے تو اس کی بدنامی نہیں بلکہ نیک نامی ہوگی اور ذلت نہیں بلکہ عزت ہوگی اور اس کی باتوں کا اعتبار پھر سے قائم ہو جائے گا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ ہم جو گورنمنٹ کی ہمیشہ سے اطاعت اور فرمانبرداری کرتے دسواں واقعہ چلے آئے ہیں ہمارے متعلق گورنمنٹ کے عجیب و غریب خیالات ہیں گورنمنٹ پنجاب کے ایک ذمہ دار سیکرٹری نے سلسلہ کے ایک سیکرٹری سے کہا کہ آپ لوگ پیرالل گورنمنٹ یعنی متوازی حکومت قائم کر رہے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ اپنی جماعت کے مقدمات سنتے ہیں۔ہمارے سیکرٹری نے کہا کہ اس میں کیا غضب ہو گیا۔گورنمنٹ تو آپ یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ لوگوں کو اپنے مقدمات کے آپ فیصلے کرنے چاہئیں عدالتوں میں نہ آنا چاہئے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو گورنمنٹ یہ کہتی ہے کہ اپنے مقدمات کا گھروں میں فیصلہ کرنا چاہئے۔اور دوسری طرف وہ جماعت جو مقدمات کا اپنے گھروں میں فیصلہ کرتی ہے اس کے متعلق کہتی ہے کہ وہ پیرائل گورنمنٹ قائم کر رہی ہے۔یا تو گورنمنٹ یہ نہ کہتی کہ اپنے گھروں میں مقدمات کا فیصلہ کیا کر دیا پھر اس کی اجازت کے ماتحت گھروں میں جھگڑوں کا تصفیہ کرنے والوں پر یہ الزام نہیں لگانا چاہئے اگر یہ کہا جائے کہ ہم قابل دست اندازی پولیس والے فوجداری مقدمات سنتے ہیں تو یہ صریح غلط اور خلاف واقع ہے ہاں ہم یہ مشورہ ضرور دیتے ہیں کہ ہر جھگڑے کے متعلق سلسلہ کے کارکنوں سے مشورہ کر لو جو پولیس کے دائرہ میں آتے ہیں ان کو پولیس میں لے جانے کی وہ ہدایت کریں گے اور