تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 459 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 459

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۴۵ دی کہ احمدی نیزے بنوا رہے ہیں اور پھر اپنے طور پر اوپر کے حکام کے ایماء سے اس کھڈ سٹک کو زبردستی چھین کر اوپر بھجوا دیا کہ یہ نمونہ ان نیزوں کا ہے۔اس گفتگو کے چند دن بعد میں یہ خبر اخبارات میں پڑھ کر حیران رہ گیا کہ قادیان سے نیزوں کی برآمد ہوئی ہے یہ خبر ایسوشیا۔سند پریس نے بذریعہ تار سب اخبارات کو ارسال کی تھی اور اس ایجنسی کو عموماً حکومت کی طرف سے خبریں مہیا کی جاتی ہیں۔پس ہمیں اس بات پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ خبر حکومت ہی کے بعض افسروں کی طرف سے اسے ملی تھی۔جس وقت مذکورہ بالا پولیس افسر نے اس کھڈ سٹک کا مجھ سے ذکر کیا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ سب احمدی گھروں کی تلاشی لے کر دیکھ لیں کہ وہاں کس قدر اسلحہ ناجائز طور پر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم یوں تو تلاشی نہیں لے سکتے۔لیکن میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں آپ قانونا تلاشی نہیں لے سکتے لیکن میں جب جماعت کی طرف سے اجازت دیتا ہوں تو پھر تو قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔مگر انہوں نے یہ جواب دیا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تو آپ کی زبان سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے اسی طرح ان خیالی نیزوں کے ذکر پر سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور سے مرزا شریف احمد صاحب نے جب کہا کہ نیزہ نکلا ہے تو آپ مقدمہ کیوں نہیں چلاتے تو انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس کا لوہا مقررہ لمبائی سے چھوٹا ہے اس لئے وہ قانونا نیزہ نہیں بلکہ کھڈ سٹک ہے مگر باوجود اس کے کہ ایک کھڈ سٹک ایک ایسے شخص کے پاس تھی جس کا پیشہ ہی ایسی اشیاء تیار کرنا ہے اور باوجود اس کے کہ اس کھڈ سٹک کالوہا نیزہ کی تعریف میں نہیں آسکتا اور باوجود اس کے کہ وہ صرف ایک ہی نیزہ تھا اور باوجود اس کے کہ حکومت کو چیلنج کیا گیا کہ وہ مقدمہ چلائے اور اس نے مقدمہ نہیں چلایا اور باوجود اس کے کہ میں نے پولیس کو دعوت دی کہ وہ ہمارے گھروں کی تلاشیاں لے کر دیکھ لے کہ کیا نیزے ہمارے گھروں میں پوشیدہ ہیں اور انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔سب ہندوستان میں یہ خبر مشہور کر دی گئی کہ قادیان سے نیزوں کی بر آمد ہوئی ہے اور حکومت نے آج تک اس کی تردید نہیں کی ہر شخص جو واقعات سے آگاہ ہے جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ قادیان سے نیزہ پکڑا گیا اور یہ اور بھی جھوٹ ہے کہ قادیان سے نیزوں کی برآمد ہوئی۔قادیان میں ایک شخص کے پاس ایک کھڈ سٹک تھی جو ظلما اور تعدی سے بلا حق کے پولیس نے جبرا اس سے چھین لی اور پھر جھوٹ بول کر اس کا نام نیزہ رکھ دیا گیا۔اور اس کے بعد جھوٹ بول کر ایک کھڈ سٹک کو نیزے قرار دے دیا گیا یہ اس قدر صریح جھوٹ اور سفید جھوٹ ہے کہ انسانی فطرت اس کا خیال کر کے بھی گھن کھاتی ہے اس طرح ایک امن پسند اور قانون کی پابندی کرنے والی جماعت کو ذلیل کرنے کی کوشش کر کے حکومت کے نمائندوں نے ایک نہایت گندی مثال قائم کی ہے۔ایک فساد کا دروازہ کھول دیا ہے۔اگر حکومت ہی جھوٹ پر اتر آئے تو دوسرے لوگ جو