تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 451 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 451

تاریخ احمدیت جلد ۶ صاحب کا اپنا ایک بھائی اس موقعہ پر قادیان میں اور ان کی مجلس میں موجود تھا اور اور معززین بھی وہاں موجود تھے۔ان سے گواہی لے لی جائے کہ جو واقعہ ہم بیان کرتے ہیں وہی درست ہے۔واقعہ صرف یہ ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس ایک سپاہی آیا اور اس نے بیان کیا کہ فساد کا خطرہ ہے وہ کوٹ پہن کر گئے مگر ابھی احراریوں کے جلسہ گاہ میں نہ پہنچے تھے کہ پھر ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اب ضرورت نہیں رہی فساد کا اندیشہ نہیں ہے۔کچھ عرصہ ہوا یہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب مجھ سے ملے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور پوچھا کہ آپ نے ایسی رپورٹ کس طرح کی ؟ جبکہ آپ جلسہ پر نہ گئے اور نہ کسی فساد کو رفع کیا۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ میں نے یہ رپورٹ کی اور نہ میں وہاں جلسہ پر گیا تھا۔جب یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تو میں کس طرح غلط رپورٹ کر سکتا تھا۔اب تعجب یہ کہ ایک ذمہ دار افسر تو میرے پاس آکر بیان کرتا ہے کہ جماعت نے اتنی نا معقولیت کی کہ قریب تھا وہاں خون ہو جاتے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب وہاں پہنچے تو انہوں نے فساد کو روکا۔مگر وہ ڈپٹی صاحب کہتے ہیں کہ نہ کوئی فساد ہوا نہ میں وہاں گیا اور نہ میں نے ایسی کوئی رپورٹ کی۔اب بتاؤ کہ ان مشکلات میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔پہلے واقعہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس اور مجسٹریٹ کی تکذیب کرتے ہیں۔اس واقعہ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب سپرنٹنڈنٹ صاحب کی تکذیب کرتے ہیں۔لیکن ہر غلطی کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے جس سے ہم تو یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے ساتھ فریب کیا جارہا تھا۔کوئی نہ کوئی افسر ایسا حکومت پنجاب میں تھا جو یہ سب کھیل ہمیں ستانے اور دق کرنے کے لئے کھیل رہا تھا کیونکہ بڑے افسر تبھی ایک دوسرے کی تکذیب پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ واقعہ میں غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہو۔اب میں پھر اپنے مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہوں کہ اگر واقعہ ہی کوئی نہیں ہوا تو سرکاری افسروں نے ہم پر حرف گیری کیوں کی اور ہمیں ڈراوے اور دھمکیاں کیوں دی گئیں ؟ کیا ایسے حکام کے ماتحت کوئی امن سے رہ سکتا ہے جن میں سے ایک ذمہ دار افسر ایک دوسرے ذمہ دار افسر پر جھوٹ کا الزام لگا رہا ہو اور جو وفادار رعایا کو ناحق دق کر رہے ہوں۔میں حلفیہ شہادت دینے کے لئے تیار ہوں کہ میں نے ان دو سرکاری افسروں سے جو کچھ سنا وہی بیان کیا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان افسروں میں سے جس نے بھی جھوٹ بولا ہو گا گورنمنٹ اس سے پوچھے یا نہ پوچھے خدا تعالیٰ اس سے ضرور پوچھے گا۔اسی سلسلہ میں ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ احمدیوں نے وہاں شعر پڑھے اور احرار کے جلسہ میں شورش پیدا کرنی چاہی جس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر احمدی زمیندار بھی بکثرت