تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 28 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 28

تاریخ احمد بیت - جلد ۶ ۲۸ ہوں کہ جبکہ پچھلے مالی سال کے شروع میں ۴۸۰۰۰ کے بلوں کے علاوہ اور بھی قرض تھا۔یہ سال جب ختم ہوا تو بجائے قرضہ کے قریباً ڈیڑھ ہزار انجمن کے خزانہ میں جمع تھا گویا جماعت نے پونے دو لاکھ کی رقم جمع کرنی تھی اور ایسی حالت میں جمع کرنی تھی کہ بیشتر حصہ مالی لحاظ سے مفلوج ہو رہا تھا۔حتی کہ بڑی بڑی حکومتیں قرضے لینے پر مجبور ہو رہی تھیں"۔حضرت میرزا محمد اشرف صاحب بلانوی یم کارکنان سلسلہ کے نئے دور کا افتتاح جنوری ۱۹۰۷ء سے صدر انجمن احمد یہ قادیان سے وابستہ ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۲ء تک آڈیٹر اور ۱۹۲۲ء سے ریٹائرڈ ہونے تک محاسب کے عہدوں پر فائز رہے۔اس دوران میں آپ نے حسابی معاملات میں غیر معمولی مہارت سے صد را انجمن احمدیہ کے مالی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ہر ممکن صورت اختیار کی۔آپ ہی کی تجویز سے الجمن میں پراویڈنٹ فنڈ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے سرمایہ سے جماعت کے لئے نئی آمد ہونے لگی۔اور اس سے مسجد اقصیٰ سے متصل وہ عظیم الشان مکان خرید ا گیا۔جس میں بعد کو صد را مجمن احمدیہ کے دفاتر منتقل کئے گئے۔ان خدمات کی بناء پر ۱۴/ مئی ۱۹۳۲ء کو ان کے اعزاز میں ایک الوداعی پارٹی دی گئی۔جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے الہی سلسلہ کے اوائل میں کام کرنے والوں کے بلند مقام اور میرزا محمد اشرف صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا۔" آج کی تقریب جس کے لئے ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں اس لحاظ سے ایک نئے دور کا افتتاح ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ابتدائی ایام سے ایک نظام کے ماتحت سلسلہ کا کام کیا ان میں سے کچھ لوگ ایام کار کردگی کو پورا کر کے سبکدوش ہو رہے ہیں۔پہلا دور ان لوگوں کا تھا جنہوں نے ابتدائی ایام میں انفرادی جدوجہد میں حصہ لیا اور ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہوتے گئے۔اب یہ نیا دور شروع ہوا ہے۔۔۔۔۔۔اس وقت ہمارا نظام اگر چہ بہت قلیل اور محدود ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب دنیا کی ترقی کا انحصار اس پر ہو گا اور روحانی ترقیات کی طرح مادی ترقیات بھی احمدیت کے قبضہ میں ہوں گی۔جس طرح بنک آف انگلینڈ میں ذراسی کمزوری پیدا ہونے سے حکومتیں بدل جاتی ہیں۔وزارتیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ایکس چینج میں تغیر ہو جاتا ہے۔ایک وقت آئے گا کہ اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ تغیرات ہوں گے جب سلسلہ احمدیہ کے بیت المال میں کسی قسم کا تغیر رونما ہو گا۔بنک آف انگلینڈ کا اثر تو صرف ایک ملک پر ہے لیکن یہ دنیا کی ساری حکومتوں پر اثر انداز ہو گا۔اور اس وقت یہاں کے کارکنوں کا دنیوی معیار بھی اس قدر بلند ہو گا کہ حکومتوں کی وزارتوں کی ان کے سامنے کچھ حقیقت