تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 419 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 419

تاریخ ام ۴۰۵ اس لئے ضروری ہے کہ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف منظم شورش ایمرسن کے زمانہ میں اور ان کے ذریعہ سے اٹھی۔یادر ہے یہ وہی ایمرسن ہیں جن کی نسبت سید نور احمد صاحب نے لکھا ہے۔"سر فضل حسین نے یہ بات بری طرح محسوس کی تھی اور اب پھر محسوس کی کہ گورنر ایمرسن کا رجحان مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں اور سکھوں کے حق میں ہے۔”خطبات احرار " میں لکھا ہے۔۲۲ اگر پنجاب برطانوی بساط سیاست کا بہترین مقام ہے تو سر سکند راسی بساط پر انگریز کا پسند مهره بھی ہے اس سے بہت مفید کام لئے گئے اور آئندہ بھی انگریز کو اس کی ذات سے یہی توقع ہے" اسی طرح چودھری افضل حق صاحب نے " تاریخ احرار " میں صاف لکھا ہے۔ا" سمر سکند ربقول مسٹر جناح مسٹر ایمرسن گورنر پنجاب کی پیداوار تھے" ان حالات میں ظاہر ہے کہ انگریزی حکومت کی طرف سے پنجاب کے احمدیوں کے خلاف شورش برپا کرنے کی سکیم مسٹر ایمرسن گورنر پنجاب کے نیچے سر سکندر سے بڑھ کر کامیابی سے کوئی نہیں چلا سکتا تھا۔اور انہوں نے یہ فرض پوری ذمہ داری سے ادا کر دکھایا۔اور جماعت احمدیہ کے خلاف مجلس احرار اور مولوی ظفر علی خان صاحب کی پشت پناہی کرنے کا حق ادا کر دیا۔سر سکندر ایمرسن دوستی " میں اس حد تک بڑھے ہوئے تھے کہ وہ سالہا سال تک حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اس لئے دشمن بنے رہے کہ ایمرسن حضور کے مخالف تھے۔اس حقیقت کے ثبوت میں ہم سید حبیب صاحب آف "سیاست" کی ایک اہم تحریر کا چربہ درج ذیل کرتے ہیں۔سید صاحب نے پندرہ نومبر ۱۹۳۶ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے نام ایک خط میں لکھا۔" سر سکندر کی نظر گورنر کے ہر مخالف سے بگڑی ہوئی ہے اس سے نہ آپ مستثنی ہیں نہ میں انہوں نے مجھے صاف کہ دیا ہے کہ گور نر تم سے ناراض ہیں۔لہذا تم امید داری کا خیال ترک کرد۔۔۔۔۔۔۔ہاں احرار نے مجھے انتخاب میں مدد دینے سے انکار کر دیا ہے وہ سکندرحیات کے آدمی شیخ عبد الغنی کی امداد کریں گے۔والسلام آپ کا حبیب