تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 406 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 406

تاریخ احمدیت - جلد ۶ ۳۹۲ دیا۔” مجھے معلوم نہیں کہ کیسا اور کس خیال کا انگریز ہے بعض جاسوسی کے عہدے پر ہوتے ہیں اور بعد ملاقات خلاف واقعہ باتیں لکھ کر شائع کر دیتے ہیں۔صرف یہ اندیشہ ہے "۔مسٹراء برائن کا نظریہ پنجاب کے ایک سابق کمشنر مسٹراو برائن کہا کرتے تھے کہ سارے انگریز جو جماعت احمدیہ کو دوست سمجھتے ہیں بے وقوف ہیں۔یہ ایسی منتظم 1 جماعت ہے کہ کسی روز اپنی بادشاہت قائم کرلے گی۔مسٹراو برائن کا یہ نظریہ اگر چہ ذاتی نوعیت کا ہے۔مگر خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور میں جبکہ جماعت احمدیہ نے مسلمانان ہند کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف قومی اور ملی تحریکات میں حصہ لیا عوام میں یہ خیال تیزی سے پھیلنے لگا تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک دفعہ خطبہ میں بیان فرمایا کہ لارڈ ہیلی نے چٹھی لکھی کہ جب میں پنجاب کا گور نر تھا۔اس وقت بھی اس جماعت کے خلاف ایسی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔حتی کہ ان ہی باتوں کی تحقیقات کے لئے مجھے دو تین بار گورداسپور جانا پڑا۔مگر میں نے ہمیشہ یہ باتیں غلط پائیں۔اور یہی ثابت ہوا کہ وہ صرف دشمنی کی وجہ سے کی جاتی تھیں۔لیکن ۱۹۳۲ء میں تحریک کشمیر کے جاری ہو جانے کے بعد گورنر پنجاب سے لے کر وائسرائے ہند تک مسٹر او برائن کے نظریہ کے قائل ہو گئے اور وہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بے مثال قیادت کے زبر دست اثرات و نتائج دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر جماعت احمدیہ اسی طرح ”سیاسیات میں دخل دیتی رہی تو آئندہ چل کر وہ انگریزی اقتدار کے لئے ایک عظیم خطرہ بن جائے گی۔اس لئے ضروری خیال کیا کہ اس مرحلہ پر ہی اس کی سرگرمیاں کچل دی جائیں۔خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ۱۹۳۴ء کے آغاز میں ایک خطبہ جمعہ کے دوران انکشاف فرمایا۔انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منتظم جماعت اگر مخالف ہو گئی تو ہمارے لئے بہت پریشانیوں کا موجب ہوگی۔۔۔۔ایک ذمہ دار افسر سے یہ بات سن کر مجھے سخت حیرت ہوئی کہ حکومت نے تحقیق کرائی ہے کہ قادیان میں حکومت کے خلاف کیا سازشیں ہو رہی ہیں "۔ایک دوسرے خطبہ میں بتایا کہ گور نمنٹ پنجاب کے ایک ذمہ دار سیکرٹری نے سلسلہ کے ایک سیکرٹری سے کہا کہ آپ لوگ پیرائل گورنمنٹ یعنی متوازی حکومت قائم کر رہے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ اپنی جماعت کے مقدمات سنتے ہیں " اس خیال کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ مہاراجہ کشمیر انگریزوں کے زیر سایہ اور حلیف تھے اس لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جب عالمی سطح پر ان کی حکومت کے خلاف زبردست پرو پیگنڈا کیا تو ہندوستان کی انگریزی حکومت نے اس کو اپنی تو ہین سمجھا۔پھر ہندوؤں کے پریس اور اخبار "زمیندار" | ۱۹۸ 144