تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 394
٣٨٠ ۱۱۵۸ کی آئینی اور قانونی تعریف اور اصطلاح کی رو سے مسلمان ہی سمجھتی ہے اور اسے عالم اسلام کے سیاسی اتحاد کا نقطہ مرکز یہ قرار دیتی ہے مگر جہاں تک روح اسلامی کا تعلق ہے دوسرے مسلمان بھی خود تسلیم کرتے ہیں کہ اس زمانہ کے مسلمان کہلانے والے عملی اعتبار سے مسلمان نہیں ہیں۔پس محض اس وجہ سے کہ جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کو سیاسی اور آئینی اعتبار سے مسلمان سمجھتی ہے ملت اسلامیہ سے الگ نہیں کی جاسکتی تھی اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ بالکل ناجائز اور ہر لحاظ سے ناروا اور نامناسب تھا جو صرف سیاسی ہتھیار کے طور پر اختیار کیا گیا مگر رپرا بد قسمتی سے اسے ایک شرعی فتوی کی حیثیت دے دی گئی جو گاندھی جی کی تحریک سے احراری علماء کی وابستگی کا ایک کرشمہ تھا۔چنانچہ اخبار "زمیندار" نے ایک بار اسی طرز کی " شرعی" سیاست کاریوں کے بارے میں یہ رائے دی تھی۔" بد قسمتی سے جب " تحریک خلافت" نے مہاتما گاندھی کی سیاسی تحریک سے اپنا دامن باندھا تو بہت سے ایسے علماء جنہوں نے اپنی تمام عمر د رسوں اور حجروں اور مسجدوں کے مصلوں پر گزاری تھی۔مختلف طریقوں سے سیاسی میدان میں لائے گئے اور ان سے فتویٰ حاصل کر کے سیاسی جدوجہد کو تقویت پہنچائی گئی۔یہ ایک طویل داستان ہے جس کے بعض پہلو افسوسناک اور شرمناک بھی ہیں بہر حال اس وقت سے حالت یہ ہو گئی ہے کہ ایک طرف تو سینکڑوں ایسے نعلی علماء میدان میں نظر آنے لگے جن کو کسی حیثیت سے فتویٰ جاری کرنے کا حق حاصل نہ تھا اور دوسری طرف عوام کے اندریہ ذہنیت پیدا ہو گئی کہ وہ ہر معمولی سے معمولی سیاسی مسئلہ کو لے کر علماء کی جانب رجوع کرنے لگے۔اسی طرح پاکستان کے مشہور محقق و مورخ عاشق حسین صاحب بٹالوی ” ہماری قومی جدوجہد " میں ود لکھتے ہیں۔جہاں تک ملکی سیاست کا تعلق ہے ہندوستان کے پیشہ ور مولویوں نے کتاب و سنت کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا تھا جب کانگریس نے ترک موالات کا ریزولیوشن پاس کیا تو جمعیتہ العلماء نے بھی قرآن و حدیث کی بناء پر ترک موالات کا فتویٰ دے دیا۔پھر حالات بدلے اور سی۔آر داس اور موتی لال نہرو نے سوراج پارٹی قائم کر کے کونسلوں کے مقاطعہ کی شرط اٹھا دی تو ان ہی پیشہ ور مولویوں نے جھٹ پہلا فتویٰ منسوخ کر کے کو نسلوں میں داخلے کو جائز قرار دینے کی غرض سے نیا فتوی داغ دیا۔واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان پر انگریز مسلط تھے اور ہندوستان کے لئے ہر قسم کا آئین برطانیہ کی پارلیمنٹ سے منظور ہو کر آتا تھا۔پارلیمنٹری نظام ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کے