تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 385
تاریخ احمدیت - جلد ؟ احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اس معاملہ میں سب پر سبقت رکھتے تھے کیونکہ اس کی ساحرانہ خطابت بے مثال تھی جس کے سامنے عوام و خواص مبہوت ہو کے رہ جاتے اور ان کی ہر بات پر جھوم جاتے۔چنانچہ ان کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔بعض خصوصیتیں صرف شاہ جی کے لئے مخصوص ہیں مثلا وہ مخاطین کو سوچنے کا موقعہ ہی نہیں دیتے اس تیزی سے سامعین کو اپنے ساتھ بہالے جاتے ہیں کہ ان میں حرکت یا جذبے کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہتی "۔کچھ عرصہ قبل رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار ”ہمدرد" (مورخہ ۱۲/ نومبر ۱۹۲۶ء) میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو مشورہ دیا تھا۔” جو قدرت تم کو اپنی زبان پر ہے وہ خداداد ہے اور خدا کی ایک بڑی نعمت ہے مگر ایک بڑی خطرناک نعمت ہے اور تمہاری مسئولیت بہت بڑھ گئی ہے جب تک تم اسے حق کی راہ میں استعمال کر گے فلاح دارین حاصل کرو گے لیکن اگر کبھی یہ باطل کی راہ میں استعمال کی گئی تو ہزاروں بندگان خدا کو بھی گمراہ کرنے کے لئے کافی ہو گی"۔افسوس! آئندہ واقعات سے مولانا جو ہر کا یہ قیاس بالکل صحیح نکلا پھکڑ بازی: جناب آغا شورش کاشمیری سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے سوانح میں لکھتے ہیں۔ان کے ہاں ہر سخن کی ترازو ہے ان کے الفاظ مل کر نکلتے ہیں۔ان کے ہاں طنز بھی ہے سخت قسم کا طنز لیکن سب و شتم نہیں۔جن چیزوں سے نفور ہوں ان سے تمسخر بھی روار کھتے ہیں۔ان کے ہاں اس تمسخر یا پھکڑ کی زد سب سے زیادہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی ذریات پر پڑتی ہے "۔اشتعال انگیزی : احرار کو اشتعال انگیزی کے فن میں ہمیشہ ید طولی حاصل رہا ہے احمدیت کے خلاف ان کے جلسوں کا نام تبلیغ کا نفرنس ہو تا تھا۔مگر یہ تبلیغ محبت و دلائل سے نہیں ڈنڈے کی زبان سے ہوتی تھی۔مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری نے اس حقیقت کی وضاحت دو فقروں میں کر دی ہے چنانچہ لکھا " احرار بھی مناظرات مرزائیہ کو حرام قطعی نہیں جانتے بلکہ اگر ضرورت بود روا باشد پر عمل کرتے ہیں۔یہی ہمارا طریق ہے فرق اتنا ہے کہ ہمارا مناظرہ کتابی ہوتا ہے اور احرار کے مناظرہ میں بقول ان کے ڈنڈا ہر کسے را بر کاری ساختند " - 1 اب ظاہر ہے مذہب اسلام کی تبلیغ کا جھگڑا نہیں کہ لٹھ بازی سے کام لینے کی نوبت آئے چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار فرماتے ہیں۔