تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 21
تاریخ احمدیت جلد ۶ M ضرورت پر ایسا کیا جا سکتا ہے امیر پبلک کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہے اس لئے خواہ لوگ کتنا بھی اصرار کریں یہ عمدہ در حقیقت خلیفہ وقت کا اعتماد رکھنے والے شخص کو مل سکتا ہے اور اس میں یہی حکمت ہے کہ اسلامی نظام اتحاد عالم پر مبنی ہے نہ کہ قومیت پر۔نظام امارت پر روشنی ڈالنے کے بعد حضور نے تحریر فرمایا۔احمدی یاد رکھیں یہ اصول ہیں جن پر سلسلہ کا آئندہ نظام چلایا جائے گا۔اور سب صوبوں اور ملکوں کے احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے تاکہ وہ دھو کہ نہ کھائیں اور انہیں کوئی دوسرا شخص دھوکا نہ دے۔" جہاں تک امارت بنگال کا تعلق تھا حضور نے فیصلہ فرمایا کہ " حکیم ابو طاہر صاحب جنہوں نے اپنے گزشتہ رویہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امارت کے منصب کو خوب سمجھتے ہیں انہیں علاوہ کلکتہ کا مقامی امیر ہونے کے تمام بنگال کا بھی امیر مقرر کرتا ہوں چونکہ صوبہ کے کام کیلئے وہ صرف کلکتہ کے احباب کے مشورہ پر انحصار نہیں کر سکتے اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ امیر صوبہ کی ایک مجلس شورئی ہو جس میں صوبہ کے تمام مقامی امراء شامل ہوں اور علاوہ اس کے مبلغین سلسلہ بھی اس کے ممبر ہوں۔علاوہ ان کے اگر کسی شخص کو خاص طور پر مرکز کی طرف سے اس غرض کیلئے چنا جائے یا صوبہ کی انجمنیں اپنے سالانہ اجتماع میں بعض لوگوں کو خاص طور پر اس کام کیلئے تجویز کریں تو ان لوگوں کو بھی اس مجلس کا نمبر سمجھا جائے۔سردست علاوہ امراء اور مبلغین کے چودھری ابوالهاشم خان صاحب، مولوی مبارک علی صاحب اور پروفیسر عبد القادر صاحب کو اس مجلس کا ممبر مقرر کر تا ہوں"۔اس سال حضور نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ان کے سفر (۱۹۳۲ء میں) الله رضيري لاہور، دہلی، ڈیرہ دون راولپنڈی ، شملہ اور ڈلہوزی کے سفر اختیار کئے۔سفر لا ہو ر : ۱۳ / فروری ۱۹۴۰ مارچ ۱۹۴۰ مئی اور ۵ / جولائی ۱۹۳۲ء کی تاریخوں میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے لاہور میں اجلاس منعقد ہوئے۔حضور نے لاہور جاکر ان سب اجلاسوں کی صدارت فرمائی۔علاوہ ازیں آپ مسلمانوں کے مفاد سے متعلق ایک اہم مشورہ کے لئے ۲۹/ جنوری ۱۹۳۲ء کو بھی تشریف لے گئے۔۲۳/ اگست ۱۹۳۲ء کو سردار سکندر حیات خاں قائم مقام گورنر پنجاب کو دی جانے ۴۱ والی پارٹی میں شمولیت کے لئے بھی لاہور جانا پڑا۔سفر دہلی : ۲ و ۴ / مارچ ۱۹۳۲ء کو دہلی میں کشمیر کمیٹی کے اجلاس تھے۔جن میں شمولیت کے لئے حضور یکم مارچ کو دہلی تشریف لے گئے۔اور چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پرانا