تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 371
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ طرف ان تمام کشمیری لیڈروں کو جو اندرون ریاست قیادت کر رہے تھے اور کشمیر کمیٹی سے رابطہ رکھتے تھے بے بنیاد اور مفتیانہ پراپیگنڈا کر کے ناکام بنانے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔اگر چہ ڈوگرہ حکومت اور پنجاب کا ہندو پریس لگا تار یہ حربہ استعمال کرتے رہے تھے مگر احرار ان دونوں سے گوئے سبقت لے گئے جس سے تحریک کشمیر کو سخت نقصان پہنچا اور کشمیری لیڈر از حد پریشان ہو گئے۔چنانچہ جناب اللہ رکھا صاحب ساغر نے جموں سے مولانا سید حبیب صاحب مدیر "سیاست" کو مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔۲۴-۱۰-۳۱ پرائیویٹ چٹھی حضرت مولانا السلام علیکم۔شرمندہ ہوں کہ آپ کو الوداع نہ کہہ سکا۔یہاں احرار والوں نے سخت کمینہ پراپیگینڈا شروع کر دیا ہے اور جعلی تار دلائے جارہے ہیں۔جن میں نمائندگان کشمیر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے اور افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ نمائندے روپیہ بٹور گئے ہیں۔جموں کی صورت حالات حد درجہ تشویشناک ہو گئی ہے۔اندیشہ ہے کہ عوام گمراہ نہ ہو جائیں احرار والوں کی گوشمالی کی شدت سے ضرورت ہے لیکن صرف آپ کی طرف سے ایسوسی ایشن خاموش رہے گی البتہ اندرونی طور پر ہم سب کچھ کریں گے۔کیا آپ "کشمیری مسلمان " کی طرز کا کوئی اخبار احرار والوں کے شرمناک پروپیگنڈا کی روک تھام کے لئے جاری کر سکتے ہیں ؟ "انقلاب" کی طرح "سیاست" کے پرچے بھی تین یوم کے بعد مطبوعہ مواد کے پاکٹ میں بھیجوا دیا کریں تو نوازش ہوگی۔تاکہ ہم بھی "سیاست" کے مشورہ سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔خادم اے۔آر۔ساغر جموں مولانا سید حبیب صاحب نے یہ مکتوب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ بھجوا دیا۔" حضرت مرزا صاحب السلام عليكم۔۔۔۔۔به خط بغرض اطلاع ابلاغ خدمت ہے۔میں حاضر ہوا تھا آپ موجود نہ تھے۔حبیب"۔