تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 20
تاریخ احمدیت جلد ؟ شہروں کی طرح قادیان میں بھی یوم سرحد کے سلسلہ میں ایک عام جلسہ منعقد کیا گیا اور مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کرنے اور حکومت سے اس کا ازالہ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔جلسہ سے قبل سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی خطبہ جمعہ میں مظالم سرحد کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا کہ صوبہ سرحد میں معلوم ہوا ہے کہ بعض افسروں نے بہت زیادتیاں کی ہیں۔۔۔ہمارے خیال کے مطابق سرخ پوش تحریک جائز نہیں مگر پھر بھی وہاں کے مظلوموں کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے۔۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ ان حالات کا علم ہونے کے بعد حکومت ان کے ازالہ کی کوشش کرے گی اور ہر وہ مسلمان جو ان کی کسی نہ کسی طرح مدد کر سکتا ہو اس سے دریغ نہ کرے گا۔میں اپنے سرحدی بھائیوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایسی حرکات نہ کریں جن سے امن میں خلل واقع ہو اس وقت وہاں ریفارم سکیم نافذ کی جارہی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس وقت وہاں پر امن فضا کی ضرورت حضرت چودھری ابوالہاشم خاں صاحب جنرل فیصلہ متعلق امیر جماعت احمدیہ بنگال سیکرٹری صوبہ بنگال نے امیر سے اختلاف کی بناء پر اپنے کام سے استعفاء دے دیا تھا جس پر حضور نے صوبہ بنگال کے دوستوں سے مشورہ کیا اور دریافت فرمایا کہ مرکز کہاں ہو۔اور بنگال کا امیر کیسے مقرر کیا جائے ؟ جوابات سے معلوم ہوا کہ اہل بنگال پر ابھی منصب امارت کی حقیقت پوری طرح واضح نہیں لہذا حضور نے ایک مفصل مضمون لکھا جس میں بڑی وضاحت سے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور ہدایات کے مطابق ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ کا مالی کام براہ راست ایک شخص کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ حضرت اقدس ایک انجمن کے ذریعہ سے ایک ایگزیکٹو باڈی (EXCUTIVE BODY) کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہیں جو آپ کے نزدیک تمام دنیا کی احمدی جماعتوں کے لئے نقطہ مرکزی ہے اور جس کا ابدی مرکز قادیان ہے دوسری طرف حضور اس جماعت کی ترقی خلافت سے وابستگی کے ساتھ مشروط رکھتے ہیں۔تیسری طرف اسلام سے ثابت ہے کہ کوئی خلافت بغیر مشورہ کے نہیں چل سکتی۔ان تینوں امور کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف ایک ہی نظام ہے جو صوبہ جات میں قائم کیا جا سکتا ہے اور ایسا نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ایک امیر ہو جو خلیفہ وقت کا نائب ہو۔غرض حضور نے ثابت کیا کہ بہترین نظام امارت کا نظام ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے مقامی انتظام اور مرکز کی ضرورتیں دونوں پوری ہوتی رہتی ہیں۔مگر امیر کے لئے ہر گز یہ شرط نہیں کہ اسی ملک کا باشندہ ہو اسلام کے شروع زمانہ میں نوے فیصدی امراء مرکز کے نامزد ہوتے تھے اور اب بھی