تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 370 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 370

تاریخ احمد بیت - جلد ۶ ۳۵۶ شروع کر دی اور دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا کہ پورے اسلامی ہند نے اسے لیڈر مان کر اس کے باپ کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے۔۔۔اس لئے باخبر اہل مذاہب کو مرزائی مبلغوں کے ہاتھوں مسلمانان کشمیر کے ارتداد کا خطرہ لاحق ہو گیا"۔قارئین کو " تاریخ احمدیت کی گزشتہ جلد سے معلوم ہو چکا ہو گا کہ خط کشیدہ الفاظ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ جھوٹ اور بہتان کی بدترین مثال ہے لہذا ہم اس پر کوئی مزید تبصرہ کئے بغیر چودھری افضل حق صاحب کی تحریر کا اگلا حصہ نقل کرتے ہیں۔میں۔۔۔۔اس پیدا شدہ صورت حال سے گھبرا گیا اور لاہور پہنچا میں نے دیکھا کہ مولانا داؤد غزنوی ٹانگے پر سوار پریشان سے جارہے ہیں۔پوچھا کدھر کا عزم ہے کہا کہ مرزائی قیادت مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہو گی۔میں شہر کے علماء سے مل کر ان کی قیادت کے خلاف اعلان کرانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔اسی دن یا اگلے دن علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی صدارت میں محمڈن ہال میں عمائدین شہر کا جلسہ تھا جس میں کشمیر کی اوس پڑی قسمت زیر غور تھی۔مولانا مظہر علی غالباً مولانا داؤد غزنوی بھی اور میں بھی محمڈن ہاں گئے خیال یہ تھا کہ کوئی تدبیر لڑا کر مرزا بشیر کی کمیٹی کے مقابلے میں احرار کے حق میں ان لوگوں کی تائید حاصل کی جائے باقی حاضرین طبقہ اوٹی سے متعلق تھے وہ احرار کے نام پر حقارت سے منہ بسورتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب احرار کو آگے بڑھانے پر بضد تھے۔بہر حال ہم بزوری و بزاری ان کا اعلان اپنے حق میں کروانے میں کامیاب ہو گئے۔بس تھوڑی سی کھڑے ہونے کو جگہ ملی تھی بیٹھے اور پاؤں پیار کر ساری جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے ہمت درکار تھی " -1 پھر لکھتے ہیں۔" علامہ سر محمد اقبال کشمیر کمیٹی کے ضرور ممبر ہو گئے تھے لیکن یہ کیفیت اضطراری تھی۔وہ فورا سنبھل کر کشمیر کمیٹی کی تخریب میں لگ گئے اور احرار کی تنظیم کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنے لگے۔احرار نے " بزوری و بزاری " اعلان کروانے میں کامیاب ہونے کے بعد کشمیر کمیٹی کی " تخریب" اور پاؤں پیار کر ساری جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے " وسیع پیمانے پر جارحانہ کارروائی شروع کردی۔اس سلسلہ میں تحریک آزادی کو تباہ تحریک آزادی کو تباہ کرنے کے لئے پہلا قدم کرنے کے لئے ایک خطر ناک قدم یہ اٹھایا گیا کہ ایک طرف تو کشمیر کمیٹی سے وابستہ مسلم زعماء ( مثلاً خواجہ حسن نظامی صاحب، مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی ، سید حبیب صاحب آف ”سیاست“ اور مولانا غلام رسول صاحب مہر) کو مرزائی یا مرزائی نواز قرار دے کر مسلمانان ہند کو بد دل کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔اور دوسری